اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے گوداموں سے کروڑوں روپے مالیت کے ضبط شدہ سگریٹ پراپرٹی کی چوری، خیانت اور بدعنوانی پر بڑی قانونی کارروائی کرتے ہوئے ایف بی آر اہلکاروں اور پرائیویٹ کمپنی کی انتظامیہ کے خلاف باضابطہ مقدمہ درج کر لیا .
ایف آئی آر کی تفصیلات ایف آئی اے نے انکوائری (No. RE-333/2025) کی مکمل تحقیقات کے بعد ایف آئی آر نمبر 49/2026 درج کی ہے ، یہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 409 اور 109 PPC کے ساتھ Section 5(2)47 Prevention of Corruption Act (PCA) کے تحت درج کیا گیا ہے۔
نامزد ملزمانمقدمے میں ایف بی آر کے آفیسرز/اہلکار اور پرائیویٹ کمپنی کے عہدیدار نامزد کیے گئے ہیں، کامران (انسپکٹر، ایف بی آر) نوید (انسپکٹر، ایف بی آر) آفتاب حسین (ڈرائیور، ایف بی آر) قاضی عماد (سیکیورٹی گارڈ، ایف بی آر) سجاد علی (نائب قاصد، ایف بی آر) ثاقب علی خان (ڈائریکٹر، پیراماؤنٹ کمپنی) فدا (ڈائریکٹر، پیراماؤنٹ کمپنی) اویس قریشی (میجر، پیراماؤنٹ کمپنی) واقعات کا پس منظرفروری 2024، ایف بی آر انسپکٹر کامران نے چھوٹا لاہور (ضلع صوابی) میں چھ گاڑیوں سے ‘کسان’ برانڈ کے سگریٹوں کے 1,262 کارٹن تحویل میں لیے اور انہیں شاہباز گڑھی (مردان) کے گودام میں منتقل کیا۔
اپریل 2024: انسپکٹر کامران اور انسپکٹر نوید نے ہینو ٹرکوں کے ذریعے 1,202 کارٹن قاسم پولا (صوابی) کے گودام میں منتقل کیے ، تاہم وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ 908 کارٹن غائب ہو چکے تھے ، مئی 2024: دولتباد منکئی (صوابی) سے 907 کارٹن برآمد کر کے دوبارہ قاسم پولا منتقل کیے گئے، لیکن اسٹاک رجسٹر میں اس کا کوئی باقاعدہ اندراج نہیں کیا گیا۔
مئی 2025: ایف بی آر انسپکٹر شادمان خان کی معائنے کے دوران انکشاف ہوا کہ قاسم پولا گودام سے مجموعی طور پر 2,828 کارٹن سگریٹ غائب ہو چکے ہیں، جن کی کل مالیت تقریباً 25 کروڑ روپے بنتی ہے ، ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کا انکشافایف آئی اے کی چھان بین میں یہ بات سامنے آئی کہ گوداموں میں سیکیورٹی اور لاگ بکس کی شدید عدم موجودگی تھی: گوداموں میں نہ تو کوئی اسٹاک رجسٹر موجود تھا اور نہ ہی آفیشل لاگ بک رکھی گئی تھی۔
گودام کی عمارت میں سیکیورٹی کے لیے کوئی CCTV کیمرے نصب نہیں کیے گئے تھے ، مال ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے کوئی تحریری حکمنامہ یا SOPs پر عمل نہیں کیا گیا ، 908 کارٹن غائب ہونے کے باوجود اس وقت پولیس کو اطلاع نہیں دی گئی اور معاملے کو چھپایا گیا ، ایف آئی اے حکام کے مطابق ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون کی منظوری کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور اس کیس میں مزید نامزد افسران بشمول ڈپٹی کمشنرز اور دیگر سہولت کاروں کا کردار بھی دورانِ تفتیش تعینات کیا جائے گا ، کیس کی کی تفتیش اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد سفیر احمد کی دیکھ بھال میں آگے بڑھائی جا رہی ہے۔

