نیویارک (ویب ڈیسک) پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں جن میں مشرق وسطیٰ اور ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ، ان ملاقاتوں میں مصر، ترکی، انڈونیشیا، اردن، پاکستان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے درمیان تعاون اجلاس بھی شامل ہے۔
اسحاق ڈار نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں بتایا کہ نیویارک میں ان کی مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں ،سعودی عرب کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے گئے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان سرکاری، خصوصی اور ڈپلومیٹک پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزہ کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات میں مشرق وسطیٰ اور ایران کی موجودہ صورتحال سمیت علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا ، ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا ، اس موقع پر پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے تمام فریقین کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری جانب ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی ایکس پر چند تصاویر جاری کی گئی ہیں جن میں مصر، ترکی، انڈونیشیا، اردن، پاکستان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کو دیکھا جا سکتا ہے۔
ان تصاویر کے ساتھ ترک وزارت خارجہ نے لکھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ان تمام ممالک کے وزارے خارجہ کے درمیان تعاون اجلاس ہوا ہے ، اس کے علاوہ ترکی، سعودی عرب، پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ کا چھٹا اجلاس بھی نیویارک میں ہوا۔

