اسلام آباد (احسان بخاری/ سپیشل رپورٹر) وزارت خارجہ کے 12 ارب کے آڈٹ سکینڈل میں ایف آئی اے نے 15 ملزمان کو عدالت پیش کر دیا عدالت نے سات ملزمان کو جوڈیشل جبکہ چھ ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا ایف ائی اے کی ناقص تفتیش ایجنٹ مافیا کے پانچ مرکزی ملزمان کو گرفتار کرنے میں ایف آئی اے تاحال کامیاب نہ ہو سکی.
وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی جانب سے جعلی اپوسٹیل اسٹیکرز، سرکاری مہروں اور دستاویزات کی تیاری، استعمال اور مبینہ گردش کے خلاف درج مقدمہ نمبر 48/2026 میں نجیب اللہ، فرحان اشفاق، وقار زمان، اظہر اللہ، مطیع اللہ شاہ، امان نسیم، راجہ سعید خان، راجہ یاسر ایوب، محمد طفیل شاہ، راجہ انصار ایوب، ایم ریاض، ایم سرفراز، وقار احمد، محمد نصیر، محمد اسامہ، نزاکت علی اور سعید عالم سمیت مجموعی طور پر 22 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ وزارتِ خارجہ کے بعض اہلکاروں کے نام بھی ایف آئی آر میں شامل ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق کارروائی کے دوران اسلام آباد کے آبپارہ میں واقع F&F پلازہ کے بیسمنٹ میں قائم مختلف کنسلٹنسی اور کورئیر دفاتر کی تلاشی لی گئی، جہاں سے مبینہ طور پر جعلی اپوسٹیل اسٹیکرز، مہریں، سلپس اور دیگر متعلقہ دستاویزات برآمد کی گئیں ، ایف آئی اے کی جانب سے یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے ، درخواست گزاروں سے رقوم وصول کرتے تھے اور وزارتِ خارجہ کے بعض اہلکاروں کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے کارروائیاں کی جاتی تھیں۔
26 ستمبر 2026 کو عدالت میں پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق فرحان اشفاق، وقار زمان، اظہر اللہ، راجہ سعید خان، محمد طفیل شاہ لیپرڈز کورئیر (Leopards Courier) کا مالک ہے ، محمد ریاض اور محمد سرفراز کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے .
ذرائع کے مطابق ایف ائی اے نے ملزم طفیل شاہ جو کہ لیپڈ کوریئر کا مالک مالک ہے اور جوڈیشل ڈیمانڈ پر جیل پہ دیا جبکہ اس کے ملازم کو ایف ائی اے نے جس کی تنہخواہ صرف 30 ہزار روپیہ ہے اس کو گرفتار کر رکھا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم مطیع اللہ شاہ جو کہ صوفی کنسلٹنٹ ، ملزم سید عالم فیئر لائن کنسلٹنٹ ، سی ای او سروسز سی ای او ای ای سی ایس راجہ یاسر ، راجہ انصر راک ، وقار سی ای او جی ایم کنسلٹنٹ ، ستی کنسلٹنٹ سی ای او وقار ستی ، جو کہ اس سارے کاروبار میں مبینہ طور پر ملوث تھے.
ایف آ ئی اے ان کو گرفتار نہ کر سکی ایک رپورٹ کے مطابق اب تک گرفتار ہونے والے جعلی موروں اور کاغذات تصدیق کرنے والے صرف 30 ہزار روپے والے ملازم گرفتار کیے گئے جنہوں نے کروڑوں روپے کمائے یہ مرکزی ملزم ابھی تک ایف ائی اے کی پہنچ سے دور ہیں ایک رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ میں فوٹو کاپی کرنے کے حوالے سے ایک ٹھیکہ دیا گیا تھا .
جو کہ راجہ انصر اور راجہ یاسر دونوں سگے بھائی ہیں نے رکھا تھا اور انہی کی مدد سے یہ سارا کاروبار وزارت خارجہ میں افسران کی مبینہ ملی جاری تھا ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف ائی اے نے اس مقدمہ میں وزارت خارجہ کے ابھی تک کسی بڑے ملوث افسر کے خلاف کاروائی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تاہم وزارت خارجہ کی سابق سیکرٹری آمنہ بلوچ جو کہ ریٹائرڈ ہو چکی ہیں .
اور اس وقت ایک ملک میں سفیر تعینات ہیں کے بارے میں آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان کو یہ اڈٹ رپورٹ کافی عرصہ پہلے ان کے ٹیبل پر پہنچا دی گئی تھی ایف ائی اے اس بارے میں غور و خوض کر رہی ہے کہ ایا انہوں نے اس پر ایکشن کیوں نہ لیا تاہم دوسری جانب ستی کنسلٹنٹ جس کا ایف ائی اے نے دفتر بھی سیل کیا ہوا ہے کو بھی گرفتار نہیں کیا.
دوسری جانب گرفتار ملزمان میں سے ایف ائی اے نے 15 ملزمان کو عدالت پیش کر کے سات کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جبکہ چھ ملزمان ابھی بھی ایف ائی اے کی زیر تفتیش میں ہیں جن سے تفتیش کے دوران ابھی تک ٹھیک ہے ایف ائی اے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی جو کہ ڈی جی ایف ائی اے ڈائریکٹر ایف ائی اے کے لیے لمحہ فکریہ ہے.

