Rs1.12 Trillion Alleged Tax Evasion Scandal , Company Names Revealed, Hearing Set for October 6 at Peshawar High Court Capitalnewspoint.com

1120 ارب کی مبینہ ٹیکس چوری کا اسکینڈل، کمپنیوں کے نام سامنے آ گئے ، 6 اکتوبر کو پشاور ہائیکورٹ میں سماعت

اسلام آباد (احسان بخاری / سپیشل رپورٹر) 1120 ارب روپے کے مبینہ ٹیکس چوری کے معاملہ کونسی کمپنیاں ٹیکس چور نکلیں نام سامنے آ گئے ، ایف آئی اے نے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا 520 کمپنیوں کو نوٹس جاری کر کے طلب کیا 17 نے عدالت سے حکم امتناعی لے لیا عدالت نے 6 اکتوبر کو ایف بی ار اور ایف آئی اے کو طلب کرلیا ہے .

ٹیکس چوری کرنے والی کمپنیاں پشاور ہائی کورٹ پہنچ گئی عدالت سے سٹے ایف بی ار کو معاملے کہا دفع کرنے کے لیے احکامات جاری کر دیے گئے ذرائع کے مطابق 1120 ارب روپے ٹیکس چوری کے معاملہ کونسی کمپنیاں ٹیکس چور نکلیں نام سامنے آ گئے ،

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد سے متعلق ایک دستاویز میں فاٹا، پاٹا اور خیبرپختونخوا کے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں درآمدی مواد پر 1120 ارب روپے کے ٹیکس سے متعلق انکوائری کی تفصیلات سامنے آئی ہیں ، دستاویز کے مطابق اس معاملے میں مجموعی طور پر 108 نوٹسز جاری کیے گئے، جبکہ متعدد کمپنیوں کو انکوائری کارروائی میں شامل کیا گیا ہے۔

دستاویز میں مختلف کمپنیوں کے نام انکوائری میں شمولیت، وقت میں توسیع کی درخواست، واپس آنے والے خطوط اور پشاور ہائیکورٹ میں دائر رٹ پٹیشنز کے حوالے سے درج کیے گئے ہیں ،

ایف آئی آے ذرائع کے مطابق انکوائری کارروائی میں شامل کمپنیوں میں:

فیضان فوڈ انڈسٹری ، حماد اسماعیل آئل اینڈ گھی ، زبیع اللہ اینڈ فوڈ انڈسٹری ، عبدالکریم ٹریڈنگ ، باجوڑ ٹی اینڈ فوڈز ، میسرز برادرز آئل اینڈ گھی ملز ، الماشود آئلز ، شیر اسٹیل رولنگ ، اے اے گھی اینڈ آئلز مل ، گل شہزادہ انٹرپرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ ، وسیم شریف ریلائنس انڈسٹریز ، گل شہزادہ فوڈ انڈسٹری ، گل شہزادہ اسٹیل ملز
ایس بی اسٹیل میٹل اینڈ پائپ ملز ، رائل فوڈز ، ثاقب عاصم ٹریڈرز ، پٹھان آئل اینڈ گھی انڈسٹریز ، دستاویز میں حماد اسماعیل آئل اینڈ گھی اور ثاقب عاصم ٹریڈرز کے حوالے سے یہ بھی درج ہے کہ انہوں نے مکمل ریکارڈ فراہم کیا . جبکہ ایف آئی اے سےوقت میں توسیع مانگنے والی کمپنیوں کے نام ،

دستاویز کے مطابق متعدد کمپنیوں نے ایف آئی اے کی کارروائی کے جواب کے لیے وقت میں توسیع کی درخواست کی ، ان میں ، انٹرنیشنل پائپ ٹیوب اسٹیل ری رولنگ انڈسٹری ، شیر اسٹیل فرنس ری رولنگ مل ، آفریدی ٹال اینڈ فوڈ کمپنی ، سرحد ٹی کمپنی ، سیلا فوڈ انڈسٹریز ، ملاکنڈ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز
انٹرنیشنل پائپ ٹیوب اسٹیل ری رولنگ انڈسٹری ، میسرز باڑہ گھی ملز ، نور انٹرپرائزز ، سواد گھی مل پرائیویٹ لمیٹڈ ، گرین پاک آئل ، درگئی گھی اینڈ آئل ملز پرائیویٹ لمیٹڈ ، اسکائی انٹرنیشنل اسٹیل ملز ، مہرن امپیکس

دستاویز میں گرین پاک آئل کے ساتھ رٹ پٹیشن کا حوالہ بھی درج ہے، جبکہ مہرن امپیکس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس نے اپنے وکیل جی ایچ سید اینڈ کمپنی کے ذریعے وقت مانگا ، مزید تین کمپنیاں ، پاک ٹیکسٹائل اینڈ بلینکٹ انڈسٹری ، ایڈوانس ٹیکسٹائل اینڈ بلینکٹ انڈسٹری ، ریلیئنس انڈسٹریز ملاکنڈ ، دستاویز کے مطابق ریلیئنس انڈسٹریز ملاکنڈ کو بھیجے گئے خط کے حوالے سے یہ وضاحت درج ہے کہ خط غلطی سے انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ کراچی کو بھیج دیا گیا تھا، جس کے جواب میں عبدال اس زبیری لا ایسوسی ایٹس کی جانب سے تمام الزامات کی تردید کی گئی۔

ایف آئی اے کو واپس آنے والے نوٹسس میں 28 کمپنیاں شامل ہیں جو دستاویز کے مطابق ان میں ، ملاکنڈ اسٹیل ملز ، میسرز ٹیسٹ بڈز فوڈ انڈسٹری ، ایس ایچ فوڈز
کے ایف جی انٹرپرائزز ، اے کے جی ٹیکسٹائل اینڈ بلینکٹ انڈسٹری ، وسیم شریف انڈسٹری ، پاک پرل فوڈز ، عصا ایڈیبل آئلز ، ایمارات اسٹیل اینڈ میٹل انڈسٹری
خیبر وال ٹی فوڈ انڈسٹری ، اے کے فوڈز ، گریس پولیمر ، تاج پیکیجز کمپنی ، میسرز یاسمین ایڈیبل آئل پرائیویٹ لمیٹڈ ، میسرز زیتون فوڈ ، میسرز فلیور ماسٹر ، ال سید فوڈ
انصاف فوڈ ، اظہر پلاسٹک انڈسٹری ، ایم کے ایس انڈسٹریز ، الفجر فوڈز ، موورز انٹرپرائزز ، امتیاز ٹیکسٹائل ، مارکھود آئل اینڈ گھی ملز ، پاک پرل فوڈز ، میسرز عالم گھی اینڈ آئل ملز ، میسرز ایس ایس کنزیومر اپلائنسز پرائیویٹ لمیٹڈ ، ایم ایس کے انڈسٹریز .

پشاور ہائیکورٹ میں بھی رٹ پٹیشنز دائر کرنے والی کمپنیوں نے پہلی رٹ پٹیشن نمبر 13983-P/2026 کے تحت درج کمپنیوں کے نام یہ ہیں ، میسرز گرین پاک آئل گھی اینڈ الائیڈ انڈسٹری پرائیویٹ لمیٹڈ ، میسرز گل شہزاد انٹرپرائزز گھی اینڈ آئل ملز ، میسرز برادر آئل اینڈ گھی ملز ، میسرز اے اے گھی اینڈ آئل ملز ، میسرز ایس بی اسٹیل میٹل اینڈ پائپ ملز ، میسرز گل شہزادہ فوڈ انڈسٹری ، میسرز خیبر گولڈ فوڈز ، میسرز درگئی پولیمر پرائیویٹ لمیٹڈ ، میسرز آفریدی ٹی اینڈ فوڈ کمپنی ، میسرز اے ون فوڈ انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ ، میسرز سرحد ٹی کمپنی ، میسرز سیلا فوڈ انڈسٹریز ، دستاویز میں اس رٹ پٹیشن کے حوالے سے آئندہ سماعت پر عدالت میں کمنٹس جمع کرانے کی تاریخ 6 اکتوبر 2026 درج کی گئی ہے .

دوسری رٹ پٹیشن میں تین کمپنیاں شامل ان میں دستاویز کے مطابق رٹ پٹیشن نمبر 14045-P/2026 بھی پشاور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی، جس میں درج کمپنیوں کے نام یہ ہیں ، میسرز رائل فوڈز ، میسرز پٹھان آئل اینڈ گھی انڈسٹریز ، میسرز الماشود آئل اینڈ گھی انڈسٹری ، اس رٹ پٹیشن میں بھی عدالت کے سامنے کمنٹس فائل کرنے کے لیے آئندہ سماعت کی تاریخ 6 اکتوبر 2026 مقرر ہونے کا ذکر دستاویز میں موجود ہے۔

1120 ارب روپے کے معاملے میں تحقیقات جاری ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد سے متعلق اس دستاویز کے عنوان میں درآمدی مواد پر ٹیکس چوری اور فاٹا، پاٹا اور خیبرپختونخوا کے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں 1120 ارب روپے کے ٹیکس کا معاملہ ہے ، ایف آئی اے نے مجموعی طور پر 512 کو نوٹس جاری کیے جن کے جواب ابھی نہیں آئے تاہم معاملہ پشاور ہائیکورٹ میں چلا گیا جس پر سماعت 6 اکتوبر کو ہوگی جس میں ایف آئی اے اور ایف بی آر کے افسران بھی پیش ہونگے .

یاد رہے کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں ایف ائی اے نے تمام کمپنیز کے نام اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی کو اگاہ کیا تھا اور مکمل تفصیل فراہم کر دی تھی