اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مؤخر کرنے کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سہیل آفریدی پہلے انتظامی طور پر فارغ ہوچکے تھے اور اب سیاسی طور پر بھی ان کی حیثیت ختم ہوچکی ہے .
کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں فلسطینی عوام کے حق میں واضح مؤقف پیش کیا اور اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے عالمی فورم پر فلسطین کا مقدمہ اجاگر کیا، جبکہ فلسطینی نمائندوں کی جانب سے بھی ان کی تقریر کو سراہا گیا ، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فلسطینی عوام کے لیے امدادی سامان بھی بھجوایا ہے اور فلسطینی طلبہ کو پاکستان میں طبی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں ، عطا تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں اسلاموفوبیا کے مسئلے پر بھی بات کی اور فلسطینی عوام کے حقوق کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
پی ٹی آئی لانگ مارچ پر حکومتی ردعمل :
لانگ مارچ مؤخر کیے جانے کے فیصلے پر عطا تارڑ نے کہا کہ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کے لیے مطلوبہ تیاری نہیں کی گئی تھی ، انہوں نے کہا کہ اب اگر 4 اکتوبر کی نئی تاریخ دی گئی ہے تو حکومت کو اس سے فرق نہیں پڑے گا ، عطا تارڑ نے پی ٹی آئی پر دہشت گردوں سے مبینہ روابط اور دہشت گردی سے متعلق پالیسی کے حوالے سے الزامات بھی عائد کیے۔ یہ ان کی جانب سے اپوزیشن جماعت پر کیا گیا سیاسی مؤقف اور الزام ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول لانگ مارچ کے معاملے میں کارکنوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ وفاقی وزیر نے ’’کھودا پہاڑ، نکلا چوہا‘‘ کا محاورہ استعمال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے احتجاجی منصوبے پر سوالات اٹھائے ، عطا تارڑ نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کو جواب دیا گیا۔
اختیار ولی خان کا بھی ردعمل :
پریس کانفرنس میں موجود اختیار ولی خان نے حکومتی مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر سہیل آفریدی کو لانگ مارچ مؤخر کرنا ہی تھا تو پہلے کیے گئے اعلانات کی کیا حیثیت تھی ، انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی پہلے یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت کے بغیر مارچ ملتوی نہیں کیا جائے گا، تاہم اب لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کردی گئی ہے۔
اختیار ولی خان نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی کو احتجاج کے حوالے سے نمایاں کیا گیا تھا، تاہم ان کے مطابق لانگ مارچ سے متعلق اعلان محض میڈیا سرگرمی تک محدود رہا۔
4 اکتوبر کو پشاور سے مارچ روانگی کا اعلان :
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 25 ستمبر کو اعلان کیا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، اب 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہوگا ، ان کے مطابق یہ فیصلہ پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں اتفاق رائے سے کیا گیا ، پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کو آئینی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور دیگر سیاسی مطالبات سے جوڑا گیا ہے، جبکہ حکومتی نمائندے اس اقدام پر مختلف اعتراضات اور تنقید سامنے لا رہے ہیں۔

