Faisal Kundi Says PTI Long March Will Not Be Allowed Beyond Attock capitalnewspoint.com

خیبر پختونخوا کی پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، کابل سے نہیں. گورنر فیصل کریم کنڈی

پشاور (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ہماری پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، کابل، قندھار اور جلال آباد سے نہیں ، گورنر راج کے بعد پہلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صوبے میں 13 سال کے دوران پیدا ہونے والی خرابیوں کو درست کرنے میں وقت لگے گا، تاہم تین ماہ میں اقدامات کے نتائج اور فرق نظر آنا شروع ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آج ان کا پہلا ورکنگ ڈے تھا اور وفاق نے ان پر اعتماد کیا ہے، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ آخری اقدام ہوتا ہے ، گورنر کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور قانون ہاتھ میں لینے والے ہر شخص کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کسی کو صوبے میں بدمعاشی کی اجازت نہیں دی جائے گی، پولیس اور سی ٹی ڈی کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا جب کہ سکیورٹی اداروں کی تمام ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اُنہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی پالیسی وفاق سے آئے گی، ہماری پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، کابل، قندھار اور جلال آباد سے نہیں،کہ وہ ایسی حکومت نہیں چاہتے تھے جس کی پالیسی ان کے بقول بیرونی مراکز سے آتی ہو ، گورنر کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن، استحکام اور خوشحالی چاہتے ہیں اور وفاق و صوبے کے درمیان بہتر رابطہ کاری کو یقینی بنایا جائے گا۔

فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سابق صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی تھی اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر مؤقف اختیار نہیں کیا جاتا تھا، مخالفین کے احتجاج اور دعوؤں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب لانے والے گورنر ہاؤس تک بھی نہیں پہنچ سکے۔

اُنہوں نے کہا کہ پولیس کو وسائل فراہم کرنا ان کی پہلی ترجیح ہے، وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے 10 گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں، شہدا کے بچوں کی سرپرستی کی جائے گی اور شہدا کے خاندانوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا ، گورنر کا کہنا تھا کہ صوبے کے 12 اضلاع میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جائیں گے، سکیورٹی اداروں کی ضروریات پوری کرنا اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔

سہیل آفریدی سے متعلق سوال پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں اور محفوظ ہاتھوں میں ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ وہ جج نہیں ہیں کہ یہ فیصلہ کریں کہ کون گرفتار ہوگا اور کون رہا کیا جائے گا، جس کے خلاف مقدمات ہوں گے اسے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، جب کہ جن کے خلاف مقدمات نہیں ہوں گے انہیں چھوڑ دیا جائے گا۔

گونر نے کہا کہ ان کے اقدامات ہی تمام باتوں کا جواب دیں گے اور صوبے میں قانون کی عمل داری یقینی بنائی جائے گی ، فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفاق نے صوبے کو اس کے مالی حقوق فراہم کرنے ہیں اور وہ یہ معاملہ دلیل اور دلائل کے ساتھ وفاق کے سامنے اٹھائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم جلد خیبرپختونخوا کا دورہ کریں گے اور صوبے کے مسائل حل کرنے میں کردار ادا کریں گے، ترقی و خوشحالی کا سفر آگے بڑھانا ہے اور حکومت کی توجہ عملی اقدامات پر مرکوز رہے گی ، گورنر نے کہا کہ انہیں احساس ہے کہ سرحدی صورتحال کے باعث تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے، ان کے مطابق تاجروں کے مسائل جلد حل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو بہتر بنایا جا سکے۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں صوبے میں سیاسی سرگرمیوں اور احتجاج کا ماحول رہا، تاہم ان کے بقول عوام نے اسے مسترد کیا، انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ احتجاج کرنے والوں کا کنٹینر اب بھی کھڑا ہے لیکن اسے ہٹانے کے لیے کوئی نہیں آ رہا۔

انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے انتظامات کیے گئے تھے تاہم اب تک کسی نے گورنر ہاؤس کی دیواریں نہیں پھلانگیں ، گورنر نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ اندھیرے کے بعد اجالا ہوتا ہے اور صوبے کا سفر اب اجالے کی جانب جاری ہے۔