اسلام آباد(کیپیٹل نیوز پوائنٹ)اکستان میں جرمنی کی سفیر ڈاکٹر اِنّا لیپل کا نیشنل پریس کلب اسلام آباد کا دورہ ،پریس کلب کے بین الاقوامی روابط کے اقدام ’’میٹ دی پریس‘‘ کے تحت صحافیوں کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں شرکت کی۔ دورے کے دوران سفیر نے نیشنل پریس کلب کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا اور بعد ازاں کلب کے احاطے میں دوستی اور ماحولیاتی پائیداری کی علامت کے طور پر پودا بھی لگایا،جرمن سفیر کا نیشنل پریس کلب آمد پر صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال، سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ، گورننگ باڈی کے ارکان اور سینئر صحافیوں نے پرتپاک استقبال کیا۔صدر این پی سی نے جرمن سفیر کو پریس کلب آمد پر خوش آمدید کہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا، اس موقع پر سیکرٹری نیشنل پریس کلب ڈاکٹر فرقان راؤ نے جرمن سفیر کو نیشنل پریس کلب آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے انہیںنیشنل پریس کلب کی تاریخ، صحافتی سرگرمیوں، ادارہ جاتی کردار اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ ڈاکٹر فرقان راؤ نے کہا کہ جرمنی پاکستان کا ایک اہم ترقیاتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت، تعلیم، ترقیاتی منصوبوں اور جمہوری اداروں کے استحکام سمیت مختلف شعبوں میں دیرینہ تعاون موجود ہے۔ جرمنی پاکستانی نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع اور وظائف فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ میٹ دی پریس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جرمن سفیر ڈاکٹر اِنّا لیپل نے پاکستان اور جرمنی کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو اجاگر کیا اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کئی برس گزرنے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہو سکا۔انہوں نے کہا کہ وہ 2017ء میں بھی پاکستان میں خدمات انجام دے چکی ہیں اور اب دوبارہ بطور سفیر پاکستان آئی ہیں، تاہم افسوس ہے کہ اس عرصے کے دوران دوطرفہ تجارت کے حجم میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔ جرمن سفیر نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی میں معاشی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن سے فائدہ اٹھانے کے لیے دونوں ممالک کو تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ دونوں کو یکساں فائدہ پہنچ سکے۔علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے جرمن سفیر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے، بالخصوص حالیہ امریکہ ایران کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کے لیے قابلِ تحسین سفارتی اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی ان کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جن کا مقصد تنازعات کا پرامن حل تلاش کرنا اور خطے کو عدم استحکام سے بچانا ہے۔ ان کے مطابق تنازعات کے حل اور مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے سفارت کاری ہی بہترین راستہ ہے۔یوکرین کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جرمن سفیر نے روس کی فوجی کارروائیوں پر شدید تنقید کی اور یوکرین کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی اور یورپی برادری یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔
روس کو یوکرین میں بے گناہ شہریوں کا قتل عام بند کرنا چاہیے اور امن، خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک یوکرین کی سیاسی، اقتصادی اور انسانی بنیادوں پر مسلسل حمایت کر رہے ہیں۔پاکستانی طلبہ کے لیے جرمنی میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر اِنّا لیپل نے کہا کہ معیاری تعلیمی اداروں، تحقیق کے وسیع مواقع اور سازگار تعلیمی ماحول کے باعث جرمنی پاکستانی طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے پسندیدہ ترین ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جرمنی نے پاکستانی طلبہ کے لیے جاری کیے جانے والے ویزوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے، تاہم درخواستوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث بعض اوقات ویزوں کی کارروائی میں تاخیر ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی طلبہ کی بڑی تعداد جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش مند ہے، جس کے باعث ویزا درخواستوں کا حجم بڑھ رہا ہے۔ بعض اوقات درخواستوں کی زیادہ تعداد کی وجہ سے کارروائی میں زیادہ وقت لگتا ہے، تاہم جرمن حکام طریقہ کار کو آسان بنانے اور ویزا پراسیسنگ کو مزید مؤثر اور تیز رفتار بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
تعاملی نشست کے دوران صحافیوں نے پاکستان اور جرمنی کے دوطرفہ تعلقات، تعلیمی مواقع، علاقائی سلامتی اور عالمی حالات سے متعلق مختلف سوالات کیے، جن کے جرمن سفیر نے تفصیلی جوابات دئیے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں میڈیا، عوامی روابط اور تعلیمی تبادلوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔
دورے کے اختتام پر صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال نے جرمن سفیر کا صحافتی برادری کے ساتھ تبادلۂ خیال کے لیے نیشنل پریس کلب آمد پر شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور جرمنی کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نیشنل پریس کلب سفارت کاروں، پالیسی سازوں اور صحافیوں کے درمیان بامقصد مکالمے اور روابط کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا.

