اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے آج ایف اے او ہیڈکوارٹرز میں ڈائریکٹر جنرل ایف اے او ڈاکٹر کو دونگیو کے ساتھ ایک گھنٹے طویل بامعنی دو طرفہ ملاقات کی 179ویں ایف اے او کونسل میں اپنی شرکت اور ایف اے او کے ساتھ مثالی دوطرفہ تعاون کے تسلسل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، محترم وزیر نے موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجز اور مواقع کو اجاگر کیا اور زرعی پیداوار، آبی وسائل کے انتظام، بیجوں، جدید انفراسٹرکچر، تحقیق و اختراع کے مضبوط نظام سمیت موسمیاتی لچکدار طریقوں کے ذریعے ان خطرات پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا ، وزیر نے ایف اے او کی جانب سے مزید تکنیکی معاونت کا خیرمقدم کیا اور خصوصاً چین کے کامیاب ماڈلز سے سیکھنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا، جن میں پریسیژن ایگریکلچر، اِنٹرکراپنگ، تعاونی فارمنگ، جغرافیائی شناخت (GI) کی حامل مصنوعات، ڈیجیٹل فارم مینجمنٹ اور فوڈ سیفٹی کے معیارات شامل ہیں۔
پاکستان کی ضروریات کے لیے حمایت کا اظہار کرتے ہوئے، ڈی جی ایف اے او نے طویل المدت حکمتِ عملی کے تحت ’’ڈیولپمنٹ ریسرچ‘‘ میں قریبی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا اور قلیل مدتی اخراجات کے بجائے زیادہ اثر انگیز سرمایہ کاری کی تجویز پیش کی وزیر نے پاکستان میں جاری منصوبوں کے لیے ڈی جی ایف اے او کا شکریہ ادا کیا اور ایسے تبدیلی لانے والے منصوبوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی جو کسانوں اور دیہی برادریوں کو پائیدار فائدے فراہم کر سکیں دونوں معزز شخصیات نے چھوٹے کاشتکاروں کی زراعت، مقامی غذائی نظام اور سبز دیہی ترقی کے بہترین طریقوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں اس بات پر متفق ہوئے کہ تحقیق میں ہدفی سرمایہ کاری سے کسانوں کی آمدن اور غذائی تحفظ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے

