وزارتِ غذائی تحفظ کی آلو کی قیمتوں میں استحکام کے لیے ہنگامی اقدامات

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین کی قیادت میں وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق (MNFSR) نے آلو کی قیمتوں میں شدید کمی کے مسئلے سے نمٹنے، کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور زرعی منڈی میں استحکام لانے کے لیے بروقت اور مربوط اقدامات شروع کر دیے ہیں آلو کی قیمتوں میں تیز رفتار کمی کی بنیادی وجہ افغانستان کی سرحد کی بندش ہے، جو روایتی طور پر پاکستانی آلو کی ایک بڑی برآمدی منڈی رہی ہے۔ برآمدات میں تعطل کے باعث ملکی منڈی میں اضافی رسد پیدا ہو گئی، جس سے کاشتکاروں اور برآمدکنندگان کو نقصان پہنچا۔

اس مسئلے کے حل کے لیے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق، وزارتِ خارجہ (MoFA) اور وزارتِ تجارت کے اشتراک سے متبادل برآمدی منڈیوں اور تجارتی راستوں کی تلاش میں سرگرم ہے، تاکہ پاکستانی آلو کی برآمدات کا تسلسل اور منڈی تک رسائی یقینی بنائی جا سکے کاشتکاروں اور برآمدکنندگان کی سہولت کے لیے وزارت نے آگاہ کیا ہے کہ فائٹو سینیٹری سرٹیفکیٹ کے اجرا کے لیے چالان فیس صرف 2,500 روپے ہے مزید برآں، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے وزارتِ تجارت کو ہدایت کی ہے کہ آلو کی برآمدات میں تیزی اور سہولت کے لیے غیر ملکی درآمدکنندگان کی نشاندہی کی جائے۔ وزارت نے پاکستانی آلو کے لیے 36 ممالک کو ممکنہ برآمدی منڈیوں کے طور پر شناخت کیا ہے اور ان کی فہرست برآمدکنندگان کے ساتھ شیئر کر دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کسانوں کے تحفظ، زرعی برآمدات کے فروغ اور منڈیوں میں تنوع کے ذریعے پائیدار حل کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر بین الوزارتی ہم آہنگی کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق زرعی ترقی کے فروغ اور برآمدی کارکردگی میں بہتری کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مکمل طور پر رابطے میں ہے.