اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ملک بھر کی جامعات کی ریسرچ، ہیومن ریسورس اور کمرشلائزیشن کارکردگی پر مبنی رپورٹ تیار کرلی ہے، جس میں یونیورسٹیوں کی مجموعی درجہ بندی سامنے آگئی ہے، رپورٹ کے مطابق ملک کی 95 جامعات میں سے صرف 7 یونیورسٹیاں ڈبلیو (W) کیٹیگری میں شامل ہو سکیں، جبکہ 38 یونیورسٹیاں وائی (Y) اور 43 یونیورسٹیاں ایکس (X) کیٹیگری میں رکھی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 7 جامعات کو کم ترین کارکردگی دکھانے والی اداروں میں شامل کیا گیا ہے۔
ڈبلیو کیٹیگری میں شامل جامعات میں آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف ریذیڈنٹ یونیورسٹی اسلام آباد، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)، ایئر یونیورسٹی، این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (IBA)، یونیورسٹی آف لاہور، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد اور ضیاء الدین یونیورسٹی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کم ترین کارکردگی دکھانے والی جامعات میں شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور، شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل کالج اسلام آباد، باچا خان یونیورسٹی چارسدہ، یونیورسٹی آف سوات، اور شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی برائے خواتین پشاور شامل ہیں۔
رپورٹ میں ریسرچ پروپوزلز سے متعلق اعداد و شمار بھی شامل کیے گئے ہیں، سال 2024-25 کے دوران مجموعی طور پر 2237 ریسرچ پروپوزلز جمع ہوئے، جن میں سے 918 منظور کیے گئے، جو تقریباً 41 فیصد بنتا ہے، جبکہ 2025-26 میں 9987 پروپوزلز جمع ہوئے، لیکن صرف 1250 منظور ہوئے، جو کہ تقریباً 12 فیصد منظوری کی شرح ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق منظوری کی شرح میں نمایاں کمی تحقیقی معیار، فنڈنگ کے عمل اور ادارہ جاتی صلاحیتوں پر سوالات اٹھاتی ہے، جبکہ ایچ ای سی نے جامعات کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔

