اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) اربوں روپے کے مبینہ پٹرولیم سکینڈل میں ملوث نامزد ملزم عادل اکرام ڈائریکٹر ایکسائز اسلام آباد بلال اعظم کے خلاف دئیے گئے بیان سے منحرف ہوگیا، ذرائع نے انکشاف کیا کہ ڈائریکٹر بلال اعظم کیخلاف پہلے دئیے گئے بیان کے بعد پولیس اور مافیا متحرک ہوگیا تھا اور اس پر مسلسل دباؤ ڈالا جارہا تھا کہ وہ فوری طور پر بیان سے علیحدگی کا اعلان کرے اور نہ کرنے پر ملزم عادل اکرام کو سنگین نتائج بھگتنے تک کی دھمکیاں دی گئی تھیں.
جس کے بعد نامزد ملزم نے اپنا پہلے سے دیا گیا بیان واپس لے لیا، ذرائع کے مطابق عادل اکرام کے خلاف اس سے قبل ضلع بنوں میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کے دوران اس نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ اسلام آباد میں تعینات ڈائریکٹر ایکسائز بلال اعظم اس کے بزنس پارٹنر ہیں، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ مذکورہ بیان مبینہ طور پر زبردستی دلوایا گیا تھا تاکہ ڈائریکٹر ایکسائز بلال اعظم کو بلیک میل کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق ملزم نے بعد میں عدالت میں پیش ہو کر اپنے دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرائے گئے بیان سے رجوع کر لیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اس کا پہلے دیا گیا بیان غلط اور حقیقت کے منافی تھا، دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ ملزم عادل اکرام کو ملتان پولیس نے گرفتار کر لیا ہے، جبکہ اس کے خلاف ملتان میں ایک اور مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

