اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) کے وفد نے ملاقات کی، جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نئے یومیہ نظام، ڈیلرز مارجن اور شعبے سے متعلق دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وفد نے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے یومیہ تعین کے نظام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اصلاحاتی پالیسیوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ وفد نے آبنائے ہرمز کے بحران کے دوران ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے پر حکومت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
پی پی ڈی اے کے چیف ایڈوائزر ملک خدا بخش نے کہا کہ عالمی سطح پر سپلائی کے دباؤ کے باوجود پاکستان میں ایندھن کی فراہمی مؤثر انداز میں برقرار رہی، جو حکومت اور متعلقہ اداروں کی بروقت حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا نیا یومیہ نظام سات روزہ رولنگ ایوریج (Rolling Average) کی بنیاد پر نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سابقہ ہفتہ وار قیمتوں کا نظام بھی سات روزہ اوسط قیمت پر مبنی تھا، تاہم یومیہ قیمتوں کے نفاذ سے مارکیٹ میں شفافیت میں اضافہ ہوگا، مصنوعی بگاڑ اور ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی ہوگی جبکہ صارفین کو بھی زیادہ فائدہ پہنچے گا۔
وفد نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم ڈیلرز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے درمیان نئے قواعد و ضوابط کی تیاری میں ڈیلرز کی نمائندگی اور مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔ وفاقی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ ڈیلرز کی آراء کو قواعد و ضوابط کی تشکیل میں شامل کیا جائے گا ، پی پی ڈی اے نے ڈیلرز کا مارجن بڑھا کر آٹھ فیصد کرنے کا مطالبہ بھی پیش کیا، جس پر علی پرویز ملک نے مثبت غور کی یقین دہانی کراتے ہوئے بتایا کہ اس معاملے اور دیگر متعلقہ امور پر پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اور اوگرا کے درمیان اجلاس کل منعقد کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کی حمایت پر پی پی ڈی اے کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت شفاف، مسابقتی اور صارف دوست پیٹرولیم مارکیٹ کے قیام کے لیے پرعزم ہے، ملاقات میں پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیف ایڈوائزر ملک خدا بخش، راجہ وسیم کیانی، چوہدری ظفر الٰہی، بابر علی چوہدری اور چوہدری فیصل عارف بھی شریک تھے۔

