فیڈرل گورنمنٹ ٹمپلائیز ہاؤسنگ اتھارٹی ،سیکٹر جی 14، 41 کروڑ کی کرپشن کا معاملہ ایف ائی اے نے ڈائریکٹر فنانس کو طلب کر لیا تین گھنٹے تک تفتیش جاری رہی

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ فائونڈیشن سیکٹر جی 14 میں بی یو پی کے معاملہ 41کروڑ روپے کی کرپشن کا معاملہ 32کروڑ ریکوری کرنے کے دعوے میں سے صرف 12کروڑ ریکوری 20کروڑ کی رقم تاحال ریکور نہ ہوسکی، ایف آئی اے نے ڈائریکٹر فنانس کو طلب کرلیا ابتدائی بیان میں بتایا کہ صرف بارہ کروڑ ریکوی کا انکشاف کردیا۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کے 41کروڑ روپے کی کرپشن کے مقدمہ میں دوران تفتیش ایف آئی اے کو انکشاف ہوا کہ پانچ ملزمان ڈپٹی کمشنر یاسر قیوم‘ عرفان ڈوگر‘ عبید اسحاق‘ رفیق سمیت پانچ سے تحقیقات کرکے انہیں ایف جی ای ایچ اے نے تفتیش کے بعد انہیں معطل کردیا تھا جبکہ دوسری جانب ایف آئی اے نے باہر قیوم سمیت دیگر ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا ایف آئی اے کو معلوم ہوا کہ ہائوسنگ فائونڈیشن کا کہنا تھا کہ 32کروڑ روپے ریکوری کرلی گئی ہے .

لیکن دوران تفتیش پتہ چلا کہنوید شہزاد‘ سید جمال‘ فاطمہ‘ تراب کے 8چیک جعلی نکلے جس پر ہائوسنگ فائونڈیشن کا کہنا تھا کہ ریکوری 32کروڑ روپے ہوچکی ہے جس پر ایف آئی اے نے ڈائریکٹر فنانس اصغر علی کو طلب کیا کہ 32کروڑ کی ریکوری کہاں ہے جس پر انہوں نے کہا کہ بارہ کروڑ روپے ہے لیکن وہ بارہ کروڑ کی ریکوری کی کوئی دستاویز فراہم نہ کرسکے.

جب ایف آئی اے نے دوران تفتیش ان سے کہا کہ جن کے چیک جعلی ہیں ان کے خلاف آپ نے کیا ایکشن لیا جس پر وہ لاجواب ہوگئے ایف آئی اے نے دوران تفتیش ڈائریکٹر فنانس کو طلب کیا ہےکیپیٹل نیوز پوائنٹ نے ڈائریکٹر فنانس سے ان کا موقف جاننے کے لئے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ڈی جی نے جعلی چیک دینے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج کروانے کی منظوری دی ہے۔