ہیومن پلیسنٹا سمگلنگ کیس، ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن تیز، اینٹی ایجنگ انجکشن بنانے کے انکشافات

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) ہیومن پلیسنٹا سمگلنگ کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ملک بھر میں سرگرم مبینہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں، ذرائع کے مطابق تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ انسانی پلیسنٹا سے اینٹی ایجنگ انجکشن تیار کیے جاتے تھے، جبکہ ایسے ایک انجکشن کی قیمت تقریباً سات لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔

ذرائع ایف آئی اے کے مطابق لاہور، پشاور، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں سرگرم متعدد ایجنٹس کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ تحقیقات کے مطابق یہ ایجنٹس مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں سے انسانی پلیسنٹا حاصل کرکے سمگلنگ نیٹ ورک تک پہنچاتے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس میں کسٹمز حکام اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ممکنہ کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سمگلنگ کے عمل میں کسی قسم کی غفلت یا سہولت کاری تو نہیں ہوئی۔

ایف آئی اے نے کارروائی کے دوران ویتنام بھیجی جانے والی تقریباً 100 کلوگرام ہیومن پلیسنٹا کی کھیپ بھی روک لی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مختلف شہروں سے ہر ماہ تقریباً 200 کلوگرام ہیومن پلیسنٹا اکٹھا کیا جاتا تھا، جسے بیرون ملک بھجوایا جاتا تھا۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے پورے نیٹ ورک کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے اور مزید شواہد کی روشنی میں آئندہ دنوں میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں، دوسری جانب ایف آئی اے نے گرفتار ملزمان کا مزید ایک روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کر لیا ہے، جبکہ تفتیشی ٹیم نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد، سہولت کاروں اور ممکنہ بین الاقوامی روابط کے حوالے سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔