افغان شہری کو مبینہ جعلی پاکستانی شناختی کارڈ جاری کرنے کا معاملہ، عدالت نے نادرا افسران کی ضمانت قبل از گرفتاری خارج کر دی

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے افغان شہری کو مبینہ طور پر جعلی پاکستانی شناختی کارڈ جاری کروانے کے معاملے میں اہم پیش رفت کی ہے، جہاں عدالت نے نادرا زونل بورڈ کے تین مبینہ ملوث ارکان کی ضمانت قبل از گرفتاری خارج کر دی۔

تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے نادرا ریجنل ہیڈ آفس اسلام آباد کی شکایت پر افغان شہری محمد امین ولد حیدر گل کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا, دورانِ تفتیش انکشاف ہوا کہ مذکورہ شخص افغان شہری ہے جس نے مبینہ طور پر غلط بیانی کے ذریعے پاکستانی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) حاصل کیا۔

تحقیقات کے دوران معاملہ نادرا زونل بورڈ کو بھجوائے جانے کا انکشاف ہوا، جہاں بورڈ کی منظوری کے بعد محمد امین کا شناختی کارڈ جاری کیا گیا، ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے پر 28 اپریل 2026 کو محمد امین اور نادرا زونل بورڈ کے مبینہ طور پر ملوث ارکان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ، ایف آئی اے کے مطابق ملزم محمد امین کو گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ عدالت اس کی بعد از گرفتاری ضمانت بھی مسترد کر چکی ہے ۔

دوسری جانب 7 جولائی 2026 کو سپیشل جج سینٹرل اسلام آباد کی عدالت نے نادرا زونل بورڈ کے تین مبینہ ملوث ارکان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں خارج کر دیں ، ان افراد میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر شہزاد محمد نسیم، سینئر ایگزیکٹو راجہ تیمور اور انٹیلی جنس آفیسر سجید محمود شامل ہیں ، ایف آئی اے کے مطابق مقدمے کی تفتیش انویسٹی گیشن آفیسر شہزاد خاکوانی، سب انسپکٹر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد، کر رہے ہیں جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔