اسلام آباد(سٹی رپورٹر) عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ اورسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نےملکی معاشی، سیاسی اور انتظامی صورتحال پر شدید تشویش اور حکومت کی معاشی پالیسیوں کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ حکومت کے پاس ٹیکس بڑھانے اور قرض لینے کے علاوہ کوئی مؤثر معاشی حکمت عملی نہیں ہے .
سرکاری اخراجات اور کرپشن میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،ناقص حکومتی فیصلوں کی وجہ سے کسان تباہ ہو رہے ہیں،جبر، انتقامی کارروائیوں اور سیاسی تقسیم سے مسائل حل نہیں ہوں گے، ملک کو محاذ آرائی، انتقامی سیاست اور سیاسی مقدمات سے نکال کر قومی اتفاق رائے کی طرف لے جانا ہوگا،، ملک میں سیاسی کشیدگی کا خاتمہ کیا جائے،پارٹی کنوینئرسرفراز افضل اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں میں پاکستان کے عوام کی حقیقی آمدن میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ قوتِ خرید تقریباً 14 فیصد کم ہو چکی ہے اور ہر پاکستانی پہلے سے زیادہ غریب ہو چکا ہے.
جبکہ حکومت کی جانب سے وصول کیے جانے والے ٹیکسوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور فی کس ٹیکس بوجھ تقریباً دوگنا ہو گیا ہے، انہوں نے کہا کہ بے روزگاری 21 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، غربت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور نوجوانوں کو ان کی تعلیم و صلاحیت کے مطابق روزگار میسر نہیں، ان کا کہنا تھا کہ عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق غربت کی شرح سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ چار سال کے دوران قومی قرضہ تقریباً 45 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 85 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے.
جبکہ سرمایہ کاری کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ مہنگی بجلی، گیس، پٹرول، ڈیزل اور غیر یقینی ٹیکس پالیسیوں کی وجہ سے کاروباری طبقہ نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہا ہے، عوام کی خوراک میں بھی نمایاں کمی آئی ہے اور آٹا، گوشت، گھی، سبزیوں سمیت بنیادی اشیائے خورونوش کی کھپت کم ہو چکی ہے، غذائی قلت کے باعث تقریباً 40 فیصد بچے جسمانی اور ذہنی نشوونما سے محروم ہیں، جبکہ ہیپاٹائٹس اور ایچ آئی وی جیسے امراض میں بھی تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے گندم کی خریداری اور زرعی پالیسی پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ناقص حکومتی فیصلوں کی وجہ سے کسان تباہ ہو رہے ہیں، آٹے کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور پاکستان کو لاکھوں ٹن گندم درآمد کرنا پڑ رہی ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس بڑھانے اور قرض لینے کے علاوہ کوئی مؤثر معاشی حکمت عملی نہیں رکھتی، جبکہ سرکاری اخراجات اور کرپشن میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور مؤثر اصلاحات کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں۔شاہد خاقان عباسی نے سیاسی قیادت، حکومت، اپوزیشن، عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور دیگر قومی اداروں کے درمیان جامع سیاسی مکالمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو محاذ آرائی، انتقامی سیاست اور سیاسی مقدمات سے نکال کر قومی اتفاق رائے کی طرف لے جانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ نئے انتخابات مسائل کا حل نہیں، بلکہ آئین کی بالادستی، رول آف لا، شفاف نظام اور سیاسی استحکام ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے اتحادی خود ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں، جس سے حکومتی کمزوری واضح ہوتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کو بحران سے نکالنا ہے تو تمام سیاسی قوتوں کو قومی مفاد میں بیٹھ کر اصلاحات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جبر، انتقامی کارروائیوں اور سیاسی تقسیم سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی رہنماؤں کو آزادانہ نقل و حرکت اور عوام سے رابطے کی اجازت دی جائے، ملک میں سیاسی کشیدگی کا خاتمہ کیا جائے اور تمام فریقین مل کر پاکستان کو درپیش معاشی و سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے عملی اقدامات کئے جائیں۔

