رشوت ستانی کے الزام میں کسٹمز افسران گرفتار، ایف آئی اے کو مزید انکشافات کی توقع

اسلام آباد (احسان بخاری/سپیشل رپورٹر) فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے بدعنوانی کے خلاف جاری مہم میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے پاکستان کسٹمز کے ایک سپرنٹنڈنٹ اور دو انسپکٹرز کو رشوت ستانی، بھتہ خوری، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش کے الزام میں گرفتار کر کے ایک انسپکٹر شاہ زیب کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ لے لیا دوران تفتیش ایف آئی ائے کو کلکٹریٹ اف کسٹم اسلام آباد کے دیگر افسران و اہلکاروں بارے اہم انکشافات سامنے انے کا امکان .

شکایت کنندہ نے ایف آئی اے کو آگاہ کیا کہ مذکورہ افسران جن میں سپرنٹنڈنٹ فخر گوندل اور دو انسپکٹرز شاہ زیب ، کرسٹوفر شامل ہیں ، نے ملی بھگت سے اسے ہراساں کیا، دھمکیاں دیں اور کسٹم کے زیر التواء مجرمانہ مقدمے میں ناجائز رعایت کے عوض ابتدائی طور پر 50 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا جو بعد ازاں 25 لاکھ روپے پر طے پایا ، ملزمان نے یہ بھی دھمکی دی کہ مطالبہ پورا نہ ہونے پر شکایت کنندہ کے خاندان اور ساتھیوں کو بھی مقدمے میں ملوث کیا جائے گا۔

مجاز اتھارٹی سے منظوری اور تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ کی نگرانی میں سیکٹر آئی ایٹ اسلام آباد کے MYST Café میں ٹریپ ریڈ کی گئی، کارروائی کے دوران کسٹم کے ایک انسپکٹر شاہ زیب کو مطالبہ کردہ رشوت کی پہلی قسط 5 لاکھ روپے وصول کرتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا، رنگی ہوئی کرنسی ملزم کے قبضے سے برآمد کر لی گئی اور موبائل فون بھی قبضے میں لے لیا گیا۔

موبائل فون کی ابتدائی فرانزک جانچ سے وائس چیٹس برآمد ہوئی ہیں جن سے شکایت کنندہ سے رقم بٹورنے کی مجرمانہ سازش اور اس کے خاندان کو ہراساں کرنے کے منصوبے کا انکشاف ہوا ، ملزمان کے خلاف دفعات 161 اور 109 تعزیرات پاکستان اور دفعہ 5(2) پریوینشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کے تحت ایف آئی آر نمبر 39/2026 درج کی گئی، گرفتار انسپکٹر کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا۔

گرفتار ملزم شاہ زیب کی نشاندہی پر کسٹم سپرنٹنڈنٹ فخر گوندل اور ایک اور انسپکٹر کرسٹوفر کو بھی گرفتار کر لیا گیا، ایف آئی اے کو دوران تفتیش شاہ زیب انسپکٹر نے کلکٹریٹ اف کسٹم اسلام آباد میں مبینہ طور پر اس لوٹ مار میں دیگر اہم افسران کے نام بھی بتا دیے ہیں جو کہ مل کر اس کرپشن کے دھندے میں ملوث ہیں .

ایف آئی اے کو مزید بتایا گیا کہ کون کون سے بڑے افسر اس میں ملوث ہیں ، کسٹم سپرنٹنڈنٹ فخر گوندل اور ایک اور انسپکٹر کرسٹوفر کی گرفتاری کے بعد ان کے موبائل ایف آئی اے نے قبضے میں لے کر ان کا فرانزک ہو رہا ہے جس کے بعد کسٹم سے اہم گرفتاریاں بھی متواقع ہیں تا ہم ایف آئی اے بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر کسٹم میں کھلبلی مچ گئی ہے .