federal Minister education capitalnewspoint.com

پاکستانی طلبہ کے لیے امریکی 250 سے زائد سرکاری جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع، APLU سے اہم شراکت داری کی پیش رفت

واشنگٹن ڈی سی (ویب‌ڈیسک) وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مستحق اور باصلاحیت پاکستانی طلبہ کے لیے عالمی معیار کی اعلیٰ تعلیم کے مواقع بڑھانے کی حکومتی کوششوں کے سلسلے میں ایسوسی ایشن آف پبلک اینڈ لینڈ گرانٹ یونیورسٹیز (APLU) کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا۔

وفاقی وزیر نے ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کی قیادت کرتے ہوئے APLU کی صدر ڈاکٹر وادید کروزادو اور ادارے کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی، جس میں پاکستان فنڈ فار ایجوکیشن (PFE) / پاکستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (PAK-EEF) کے تحت پاکستانی طلبہ کے لیے امریکہ کی ممتاز سرکاری تحقیقی جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع پیدا کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

APLU امریکہ کی اہم اعلیٰ تعلیمی انجمنوں میں شمار ہوتی ہے اور 250 سے زائد سرکاری تحقیقی جامعات اور لینڈ گرانٹ اداروں کی نمائندگی کرتی ہے، جن میں مجموعی طور پر 50 لاکھ سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ مجوزہ کنسورشیم سطح کی شراکت داری کے ذریعے پاکستان کو متعدد امریکی جامعات کے ساتھ منظم اور قابلِ توسیع تعلیمی رابطہ کاری کا موقع مل سکے گا۔

ملاقات کے دوران APLU کی صدر ڈاکٹر وادید کروزادو نے پاکستانی وفد کو ادارے کے ڈھانچے، رکن جامعات اور امریکی اعلیٰ تعلیمی شعبے میں اس کے وسیع نیٹ ورک کے حوالے سے بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ APLU کی رکن جامعات زراعت، انجینئرنگ، STEM، پبلک ہیلتھ سمیت مختلف اہم شعبوں میں نمایاں مہارت رکھتی ہیں۔

پاک-ای ای ایف کی چیف ایگزیکٹو آفیسر سیدہ ہاجرہ سہیل نے مجوزہ شراکت داری کے تین بنیادی ستون پیش کیے۔ پہلے ستون کے تحت پسماندہ اور کم سہولیات والے علاقوں سے تعلق رکھنے والے غیر معمولی صلاحیت کے حامل طلبہ کو میرٹ کی بنیاد پر عالمی معیار کی تعلیم تک رسائی فراہم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔

دوسرے ستون کے تحت APLU کی شریک جامعات کی جانب سے پاک-ای ای ایف اسکالرز کو جزوی یا مکمل ٹیوشن فیس معافی فراہم کرنے کی تجویز دی گئی، جبکہ پاک-ای ای ایف دیگر مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے فی طالب علم سالانہ 29 ہزار امریکی ڈالر تک اسکالرشپ معاونت فراہم کرسکے گا۔

تیسرے ستون کے تحت ایک ورچوئل آؤٹ ریچ پلیٹ فارم قائم کرنے کی تجویز ہے، جس کے ذریعے پاکستان بھر میں 300 سے زائد جامعات اور اداروں کے نیٹ ورک کی مدد سے پاکستانی طلبہ اور APLU کی رکن جامعات کے درمیان آن لائن تعارفی سیشنز منعقد کیے جائیں گے۔ ان سیشنز میں طلبہ کو تعلیمی پروگرامز، داخلے کے تقاضوں اور اسکالرشپ کے مواقع سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی۔

مجوزہ پروگرام میں ابتدائی طور پر سات قومی ترجیحی شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی، جن میں مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا سائنس، بائیوٹیکنالوجی، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، زراعت، اور پبلک پالیسی و اکنامکس شامل ہیں۔

امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے مجوزہ شراکت داری کے لیے سفارتخانے کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ سفارتخانہ پاکستانی کمیونٹی اور ڈائسپورا نیٹ ورکس کو متحرک کرکے پاک-ای ای ایف اسکالرز کے لیے اضافی معاونت اور فنڈنگ کے امکانات کا جائزہ لے گا۔

سفیر نے پاکستان اور امریکہ کی جامعات کے درمیان ماضی میں موجود تعلیمی روابط کو دوبارہ فعال اور مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا، خصوصاً پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت طلبہ کے لیے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستانی سفارتخانہ APLU کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے تعلیمی روابط کی بحالی میں سفارتی پل کا کردار ادا کرے گا۔

APLU کی قیادت نے پاکستانی وفد کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ فریم ورک کا مثبت خیرمقدم کرتے ہوئے پاک-ای ای ایف کے ساتھ کنسورشیم سطح کی شراکت داری کے امکانات تلاش کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ APLU نے اپنی رکن جامعات، کالجز اور شراکت دار اداروں سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی، بالخصوص ان اداروں کے بارے میں جو بین الاقوامی تعلیمی پروگرامز اور پاکستان کے ترجیحی شعبوں میں نمایاں صلاحیت رکھتے ہیں۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مالی وسائل کی کمی باصلاحیت طلبہ کے لیے عالمی معیار کی تعلیم کے حصول میں رکاوٹ نہ بنے ، انہوں نے کہا کہ APLU کے ساتھ مجوزہ تعاون پاکستان کے مستحق اور باصلاحیت نوجوانوں کے لیے ایک پائیدار بین الاقوامی تعلیمی راستہ قائم کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے مطابق، “250 سے زائد سرکاری جامعات میں APLU کا وسیع رابطہ اور اثر و رسوخ وہ پلیٹ فارم ہے جس کی پاکستان کو ضرورت ہے ، ہم 250 جامعات کے دروازے الگ الگ کھٹکھٹانے نہیں آئے، بلکہ ہم ایسا ایک دروازہ بنانے آئے ہیں جو پاکستان کے سب سے زیادہ مستحق نوجوانوں کے لیے ان تمام مواقع تک رسائی کھول سکے۔”

حکام کے مطابق پاکستان اور APLU کے درمیان مجوزہ تعاون عالمی معیار کی اعلیٰ تعلیم تک پاکستانی طلبہ کی رسائی بڑھانے، بین الاقوامی تعلیمی شراکت داریوں کو فروغ دینے اور ملک کے باصلاحیت نوجوانوں میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے۔