کراچی کے حالات موہنجوڈارو سے بھی بدتر، نئے انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت ہیں . فاروق ستار

کراچی (بیورو رپورٹ) رہنما ایم کیو ایم ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ کراچی کے حالات موہنجوڈارو سے بھی بدتر ہیں ، کراچی کونسل آف فارن ریلیشنز کے تحت گورننس پر نظرِ ثانی سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ملک میں ہائبرڈ جمہوریت موجود ہے، کسی کے ماننے یا نہ ماننے سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی، ماضی میں کئی مواقع پر نئے صوبوں کے قیام کی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے حالات موہنجوڈارو سے بھی بدتر ہیں، شہر کے تقریباً 40 ملین افراد بدترین حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، کراچی کی ترقی کے بغیر سرمایہ کاری کیسے آئے گی؟ گورننس بہتر بنانے کے لیے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ضروری ہے۔

رہنما ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 140 مقامی حکومتوں کے اختیارات اور نظام کی مضبوطی کی بات کرتا ہے، ہر ڈویژن اور ضلع کو بااختیار بنانا ہوگا، نئے انتظامی یونٹس کا قیام مسائل کے حل اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم کا مؤثر ذریعہ ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے صوبوں کی جغرافیائی حیثیت تبدیل نہیں ہو گی بلکہ عوامی مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے اور طرز حکمرانی میں احتساب کا نظام مضبوط ہوگا، نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے عوامی ریفرنڈم کرایا جانا چاہیے جس سے پورے پاکستان کے عوام کو فائدہ ہوگا۔

اُن کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام کراچی کے عوام کی آواز ہے، ملک کے مجموعی نظام میں اصلاحات نہیں ہوسکیں، تاہم ہماری جماعت نے اپنے اندر اصلاحات کی ہیں، ملک کے پاس وسیع معدنیاتی وسائل موجود ہیں اور معاشی کامیابی کے لیے سیاسی و انتظامی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

رہنما ایم کیو ایم نے مزید کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر سفارتی کامیابیاں ملی ہیں، معرکۂ حق میں کامیابی کے بعد معرکۂ معیشت میں کامیابی ضروری ہے، انہوں نے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس سے متعلق مختلف سیاسی سطح پر سامنے آنے والی تجاویز کا بھی حوالہ دیا۔