اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) سپریم کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے حوالے سے عظمیٰ خان کی توہین عدالت کی درخواست جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے کی استدعا پھر مسترد کر دی ، عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان نے بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر عمل درآمد نہ ہونے پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔
عظمیٰ خان کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ توہین عدالت کی درخواست کو فوری سماعت کیلئے مقرر کیا جائے اور ممکن ہو تو رواں یا آئندہ ہفتے اس پر سماعت کی جائے ، سپریم کورٹ نے دو ہفتے قبل بانی پی ٹی آئی کو اسلام آباد کے نجی ہسپتال شفاء انٹرنیشنل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کیلئے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا بھی حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہسپتال میں عمران خان کے ہمراہ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ہوں گے۔
عدالتی حکم پر بانی پی ٹی آئی کو 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب طبی معائنے اور علاج کیلئے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے 2 ماہرین نے آنکھوں کے معائنے میں حصہ لیا جبکہ دیگر طبی معائنے پمز ہسپتال کے متعلقہ ماہرین نے انجام دیئے تھے جس کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔
درخواست گزار کے مطابق فوری سماعت سے متعلق پہلی درخواست سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے مسترد کر دی تھی، جس کے بعد دوبارہ عدالت سے رجوع کیا گیا ہے ، درخواست میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جیل میں طبیعت خراب ہو رہی ہے، سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر عملدرآمد کر کے عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لئے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا مرکزی کیس 16 ستمبر کو سماعت کیلئے مقرر کیا ہے، توہین عدالت کی درخواست پر سماعت بھی 16 ستمبر کو ہوگی۔

