آزاد کشمیر میں سیاسی ہلچل پی پی پی ، ن لیگ وزیر اعظم انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے میں ناکام

مظفرآباد(بیورو رپورٹ) آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ان ہاؤس تبدیلی،پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود عدم اعتماد میں کامیاب نہ ہوسکےمعا ملہ اجلاسوں تک رہے گیا۔ پیپلزپارٹی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت بھی موجود تھی پیپلز پارٹی نے وزارت عظمی کے لیے چار ناموں پر غور کیا جن میں چوہری یاسین لطیف اکبر اور سردار یعقوب کا نام شامل تھا . پارٹی کی جانب سے باقاعدہ اعلان آج ہوگا ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد بھی آئندہ 24 گھنٹے میں پیش کی جائے گی.

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے وزیراعظم انوار الحق کے خلاف تحریک شروع کی تھی کہ حکومت کے اخراجات زیادہ ہیں محکمے موجود ہیں لیکن وزرا کو محکمہ الاٹ نہ کیے گئے قانون ساز اسمبلی کے تمام اراکین عہدوں پر فائز ہیں جس پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر نے شدید احتجاج کیا جس کے بعد وفاقی حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد حکومت راضی ہو ئی کہ موجودہ وزیراعظم کو تبدیل کیا جائے گا. ذرائع کا کہنا ہے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے خلاف ہونے والے عدم اعتماد میں شدید اختلافات بھی کھل کر سامنے آئے تاہم پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے چوہدری یاسین کو فائنل کیا ہے آئندہ تحریک عدم اعتماد کے بعد چوہدری یاسین کو بطور وزیراعظم بنائے جانے کا امکان ہے.

پیپلز پارٹی کو عدم اعتماد لانے کے لیے فارورڈ بلاک کی بھی حمایت حاصل ہوگی.وزیراعظم چوہدری انوار الحق نے تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے کا اعلان کیا ان کا موقف ہے کہ مخالفین 27لوگ جمع کرکے مجھے تصویر بھیج دیں گھرچلا جاوں گا مگر خود مستعفی ہونے سوال نہیں پیدا نہیں ہوتا مگر پیپلزپارٹی نے نامزاد وزیراعظم کے نام کا اعلان نہیں کیا ایک ہفتہ سے نہ ہی اسمبلی میں باضابطہ تحریک عدم اعتماد جمع کرائی جا سکی ہے ، صورت احوال یہ ہے کہ ایکشن کمیٹی کیساتھ معاہدہ کے بعد نئی کابینہ کل 20ارکان پر مشتمل ہوگی جبکہ اس وقت 38 لوگ وزارتیں ،مشیر، معاون خصوصی کا پروٹو کول انجوائے کررہے ہیں ان میں سے 18لوگ کابینہ سے آوٹ فریال تالپور نے صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سے ملاقات کرکے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر نے مثبت جواب دیا ہے ذرائع کے مطابق چوہدری محمد یاسین میٹرک پاس نہیں ہونے کی وجہ سے الیکشن سے آوٹ ہوئے ،بیرسٹر سلطان کی کابینہ میں جب تھے تو مانچسٹرسے اسلام آباد آتے ہوئے مبینہ طور پر فلائیٹ میں ائرہوسٹس پر دستدرازی کرنے پر اسلام آباد ائر پورٹ پر گرفتار ہوئے اور وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے، 2021 کے الیکشن میں سانحہ میٹھی جھنڈ میں دو افراد کے قتل کے الزام میں میرپور جیل میں قید رہے ،کشمیر ہاوسنگ سوسائیٹی میں کرپشن کے کیسز بھی بنے بزرگ سیاستدان نے مزید بتایا کہ اگر چوہدری انوار الحق کو اقتدار سے ہٹایا گیا تو غالب امکان ہے کہ آ نے والے الیکشن میں چوہدری انوار الحق اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی مل کر الیکشن میں کود جائیں کیونکہ عوام اب خالی نعروں کو بلکل بھی تسلیم نہیں کرتے نہ پروٹوکول کے قائل ہیں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ایک حقیقت بن چکی ہے.

پاور پالیٹکس سے وابستہ اور ممبران اسمبلی بے توقیر ہو چکے ہیں اب عوام کا سامنا کارکردگی کی بنیاد پر ہی کیا جاۓگا اور سرکاری گاڑیاں بھی اب دھول اڑاتی کم ہی نظر آ ئیں گی پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک دوسرے پر اعتماد کریں گے بھی تو زیادہ دیر نہیں چل سکتا صدر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر و سابق وزیر اعظم سردار عبد القیوم نیازی کی زیر صدارت پی ٹی آئی آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال ، پارٹی امور سمیت اہم ایشوز پر مشاورت کی گئی ، اجلاس میں قائد حزب اختلاف خواجہ فاروق احمد ، ممبران اسمبلی حافظ حامد رضا ، دیوان محی الدین اور چیف آرگنائزر چوہدری حمید پوٹھی شریک تھے۔پی ٹی آئی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی نے عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں مرکزی قائدین کے تمام فیصلوں کی توثیق کی اور فوری عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گی۔