اسلام آباد(کرائم رپورٹر )نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد میں 27ویں آئی سی سی / 51ویں اسپیشلائزڈ ٹریننگ پروگرام کے زیرتربیت اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کی پاسنگ آو¿ٹ پریڈکا انعقاد۔تقریب میں جمہوریہ ترکیہ کے معزز وزیر داخلہ علی یرلکایا کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت ،مہمانِ خصوصی نے تمام فارغ التحصیل افسران کو تربیت کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد دی ،پاکستان پولیس سروس کی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امن و امان کے قیام کے لئے دی جانے والی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد میں 27ویں آئی سی سی اور 51ویں اسپیشلائزڈ ٹریننگ پروگرام کے زیرتربیت اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کی شاندار پاسنگ آو¿ٹ پریڈ منعقد ہوئی،جس میں جمہوریہ ترکیہ کے معزز وزیر داخلہ جناب علی یرلکایا نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی،اس موقع پر انہوں نے تمام فارغ التحصیل افسران کو تربیت کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد پیش کی، انہوں نے نیشنل پولیس اکیڈمی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان پولیس سروس کے افسران کو تربیت دینے میں این پی اے کا کردار نہایت اہم ہے،انہوں نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار اور ان کی ذمہ داریاں کسی بھی ملک کے استحکام اور معاشی و سماجی ترقی کے لیے نہایت بنیادی اہمیت رکھتی ہیں،مہمانِ خصوصی نے پاکستان پولیس سروس کی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امن و امان کے قیام کے لئے دی جانے والی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا،انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دوستی اور بھائی چارے کے مضبوط رشتے موجود ہیں اور یہ تعلق وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے.

اس سے قبل کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی محمد ادریس احمدنے اپنے استقبالیہ خطاب میں مہمانِ خصوصی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر تقریب میں شرکت کی اور فارغ التحصیل افسران کی حوصلہ افزائی کی،انہوں نے بتایا کہ اس بیچ میں کل 18 افسران شامل ہیں جن میں آٹھ خواتین افسران بھی شامل ہیں،یہ تقریب 18 ماہ کی سخت اور جامع تربیت کے اختتام کی علامت ہے، جس میں پولیس مینجمنٹ، فوجداری نظامِ انصاف، قانون نافذ کرنا، کمیونٹی پولیسنگ، جرائم کے نظم و نسق، ہدفی پولیسنگ، جسمانی تربیت اور عملی پولیسنگ کے مختلف پہلو شامل تھے،انہوں نے مزید بتایا کہ نیشنل پولیس اکیڈمی کی کوشش ہے کہ جدید تحقیق کو اپنے نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ افسران جدید پولیسنگ کے رجحانات سے باخبر رہیں،افسران کو عوامی رابطوں، میڈیا تعلقات، سکیورٹی انتظامات اور کمزور طبقات کے تحفظ جیسے موضوعات پر بھی تربیت دی گئی جبکہ کورس میں انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی تربیت بھی شامل تھی،کمانڈنٹ این پی اے نے مزید کہا کہ نیشنل پولیس اکیڈمی کا مشن صرف اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس ہی نہیں بلکہ تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کو بہترین تربیت فراہم کرنا ہے،یہ کام جرائم کی بدلتی ہوئی نوعیت، امن و امان کے مسائل اور جدید چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دیا جاتا ہے،اکیڈمی نے فرنٹیئر کانسٹیبلری، ایف آئی اے، انٹیلی جنس بیورو، پنجاب اور سندھ رینجرز سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے استعداد کار بڑھانے والے کورسز بھی تیار کئے ہیں .

کمانڈنٹ این پی اے نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ آج پاس آو¿ٹ ہونے والے تمام افسران کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے مکمل میرٹ پر منتخب کیا تھا اور وہ یقیناً اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے بہترین انتخاب ہیں،انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ افسران ملک کے لئے فخر کا باعث بنیں گے اور اپنی پیشہ ورانہ خدمات کے ذریعے قومی ترقی میں مثبت کردار ادا کریں گے،تقریب کے دوران مہمانِ خصوصی نے پریڈ کا معائنہ کیا اور مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے افسران کو ٹرافیاں اورانعامات دیے،جن میں پریڈ اور مردوں میں جسمانی کارکردگی میں بہترین مظاہرہ کرنے پر کیپٹن (ر) محمد صہیب امین،فائرنگ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پرمس بشریٰ عزیز،خواتین میں جسمانی کارکردگی میں بہترین مظاہرہ کرنے پرمس بریرا بلو،گھڑ سواری میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پرمسٹر محمد نعمان،تعلیمی کارکردگی میں بہترین کا مظاہرہ کرنے پرمس عمارہ ستار، نظم و ضبط میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پرمسٹرمحمد آصف جبکہ آل راونڈ بہترین افسرمس عمارہ ستارشامل ہیں .
پریڈ میں بڑی تعداد میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ پولیس افسران، مختلف سرکاری اداروں کے نمائندگان، غیر ملکی سفارتکار اور پاس آو¿ٹ ہونے والے افسران کے اہل خانہ نے شرکت کی،شرکاءنے تربیت یافتہ افسران کے شاندار مظاہرے کو خوب سراہا.

