راولپنڈی وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر ٹریفک پولیس کا کریک ڈاؤن، تین روز میں 13 ہزار 400 سے زائد گاڑیوں پر چالان

راولپنڈی(کرائم رپورٹر) وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب پولیس کا شہریوں اور نوجوان بچوں کے خلاف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور نوجوان بچوں کا مستقبل تباہ کرنے کے معاملے میں ٹریفک پولیس کریک ڈاؤن شروع ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب کے خصوصی احکامات پر ٹریفک قوانین پر عملد رآمد کے حوالے سے ضلع راولپنڈی میں سخت کریک ڈاؤن جاری، گزشتہ تین روز میں 13ہزار 4سو سے زائد گاڑیوں کو چالان ٹکٹ جاری، آگاہی مہمات کا سلسہ بھی جاری،ڈرون ٹیکنالوجی اورسیف سٹی کیمروں سے24/7مانیٹرنگ جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب وقاص نذیر کے خصوصی احکامات پر حادثات کی روک تھام او رٹریفک قوانین پر عملدر آمد کے حوالے سے ضلع راولپنڈی میں قانون شکن عناصر کیخلاف سخت کریک ڈاؤن جاری ہے۔

ٹریفک قوانین پر عملدر آمد کروانے کیلئے چیف ٹریفک آفیسر راولپنڈی فرحان اسلم خود فیلڈ میں متحرک ہیں۔ گزشتہ تین روز کے دوران ضلع بھر میں 13ہزار4سو سے زائد گاڑیوں و موٹر سائیکلوں سواروں کو مختلف خلاف وزریوں پر چالان ٹکٹ جاری کیے گئے۔کریک ڈاؤن کے دوران 45سو سے زائد موٹر سائیکل سواروں کو بغیر ہیلمٹ، 18سو84سے زائد ون وے کیخلاف ورزی،11سو64گاڑیوں کو اوور لوڈنگ، 9سو28گاڑیوں کو دھواں چھوڑنے جبکہ 4ہزار9سو24گاڑیوں و موٹر سائیکلوں کو ٹریفک قوانین کی دیگر خلاف ورزیوں پر چالان ٹکٹ جاری کیے گئے جبکہ سنگین خلاف ورزیوں پر139ایف آر بھی درج کوائی گئیں۔اس موقع پر چیف ٹریفک آفیسر راولپنڈی فرحان اسلم کا کہنا تھا کہ چالان ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر حادثات کی روک تھام اور انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کیے جا رہے ہیں جبکہ شہریوں کو ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کیلئے مہمات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

انکامزید کہنا تھا کہ شہریوں کے جان و مال تحفظ کو یقینی بنانے،حادثات کی روک تھام اور محفوظ سفر کیلئے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپناتے ہوئے ڈرون ٹیکنالوجی اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے 24/7مانیٹرنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے جسکی بدولت شہر میں ٹریفک قوانین کیخلاف وزیوں میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے.یاد رہے کہ پنجاب کابینہ اور وزیراعلی مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب بھر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر پنجاب پولیس کو احکامات جاری کیے تھے کہ مقدمات درج کریں زیادہ سے زیادہ جرمانے کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ پنجاب حکومت کو جرمانوں کی مد میں اربوں روپے مل سکیں.