اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) نے بدھ، 3 دسمبر 2025 کو پاکستانی صحافی ارشد شریف کے کینیا میں ہونے والے بہیمانہ قتل کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لیے دائر درخواست کی سماعت کی۔ دو رکنی بینچ جس میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان بریچ شامل تھے نے کورٹ روم نمبر 2 میں سماعت کی صدارت کی عدالت نے حکومت سے جامع پیش رفت رپورٹ طلب کی اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو تفصیلی اپڈیٹس جمع کرانے کی ہدایت دی۔ بینچ نے ریمارکس دیے کہ ’’انصاف میں تاخیر، انصاف سے محرومی کا باعث نہیں بننی چاہیے۔‘‘ کیس کی مزید سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی، اور تمام متعلقہ محکموں کو اب تک کیے گئے اقدامات اور آئندہ لائحہ عمل کی سفارشات کے ساتھ رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت جاری کی گئی سماعت کے دوران ارشد شریف کے اہلِ خانہ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ تک رسائی کی درخواست کی۔ عدالت نے حکومت سے پوچھا کہ اب تک کیا پیش رفت ہوئی اور ذمہ داران کی نشاندہی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ منظر عام پر آچکی ہے، پاکستان اور کینیا کے درمیان باہمی قانونی معاونت کا معاہدہ ہو چکا ہے اور پاکستانی ٹیم کو جائے وقوعہ تک رسائی کے لیے باضابطہ درخواست بھیجی گئی ہے۔ تین ملزمان خرم، وقار اور صالح تاحال مفرور ہیں اور ان کے خلاف انٹرپول سے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق کی وکیل، بیرسٹر ایم سعد بٹر نے دلائل دیے کہ کینیا کی ہائی کورٹ نے قتل کو ٹارگٹڈ مرڈر قرار دیا تھا، لیکن تاحال کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی سماعت کے بعد صحافیوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس معاملے میں مکمل شفاف تحقیقات اور جلد انصاف فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

