پاکستان کی جانب سے کاسا (CASA) انرجی مارکیٹ کے قیام کی تجویز

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان قریبی تعاون کے ذریعے CASA انرجی مارکیٹ کے قیام کی تجویز پیش کی ہے جو کہ یورپی انرجی گرڈ کے طرز پر خطے کے تمام ممالک کو قابلِ تجدید اور روایتی توانائی کے مکمل استعمال کا موقع فراہم کرے گی سردار اویس لغاری نے یہ تجویز اسلام آباد میں کرغزستان کے وزیر توانائی مسٹر ابراروف تالائبیک اوموکیوِچ کے ساتھ ملاقات کے دوران پیش کی ملاقات میں وفاقی وزیر نے اپنے ہم منصب کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ CASA-1000 منصوبے کے نفاذ کے لیے ایسی عملی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو دونوں خطوں میں کم قیمت بجلی کی موسمی دستیابی کو مدنظر رکھے۔ انہوں نے کہا کہ شریک ممالک کو باہمی مشاورت کے ساتھ منصوبے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینی چاہیے تاکہ اس کی معاشی افادیت یقینی بنائی جاسکے۔

انہوں نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے اس مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کا استحکام براہِ راست علاقائی رابطوں سے جڑا ہے، اس لیے کسی بھی علاقائی منصوبے کی کامیابی قریبی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ وفاقی وزیر نے آگاہ کیا کہ CASA-1000 کے تحت پاکستان کا حصہ 2026 کے وسط تک مکمل ہوجائے گا اور چونکہ پاکستان اور کرغزستان دونوں نے اس منصوبے میں سرمایہ کاری کی ہے، اس لیے اس کی معاشی بہتری کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے سردار اویس لغاری نے کرغزستان–چین ٹرانسمیشن منصوبے کی فزیبلٹی میں پاکستان کے شمالی علاقوں کو شامل کرنے کی تجویز بھی پیش کی وفاقی وزیر نے مستقبل میں دوطرفہ توانائی تعاون کے لیے پانچ نکاتی فریم ورک پیش کیا، جس میں ہائیڈرو پاور منصوبوں پر مشترکہ ورکنگ گروپ کا قیام، CASA-1000 کو آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ اقدامات، پاکستانی ہنرمند افرادی قوت کی شمولیت کے لیے خصوصی شعبوں کی فہرست کا تبادل، چین–کرغزستان گرڈ انٹرکنیکشن کی فزیبلٹی میں شمالی پاکستان کی شمولیت اور دوطرفہ تعاون کے لیے خصوصی ورکنگ گروپس کے قیام شامل ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغان حکام کی شمولیت میں کرغزستان کی معاونت انتہائی اہم ہے تاکہ خطے میں استحکام اور رابطہ کاری کو مضبوط بنایا جاسکے دونوں ممالک نے اعلیٰ سطح پر روابط بڑھانے اور CASA-1000 سمیت دیگر مشترکہ منصوبوں کے چیلنجوں کو مل کر حل کرنے پر اتفاق کیا۔ اس سلسلے میں مشترکہ حکمتِ عملی مرتب کرنے کیلئے پاکستان، کرغزستان، تاجکستان اور عالمی بینک کے ماہرین کی بشکیک میں ایک خصوصی تکنیکی میٹنگ منعقد کرنے پر بھی اتفاق ہوا کرغز وزیر توانائی نے گرمجوش میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے دوطرفہ رابطوں کو مزید مستحکم کرنے کی پاکستانی تجویز سے مکمل اتفاق کیا