اقوامِ متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں کے 11ویں عالمی فورم سے وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کا خطاب

اسلام آ باد (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، ڈاکٹر مصدق ملک نے 15 دسمبر 2025 کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والے اقوامِ متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں (UNAOC) کے 11ویں عالمی فورم میں شرکت کی اور خطاب کیا۔ یہ اعلیٰ سطحی فورم “UNAOC: انسانیت کے لیے مکالمے کے دو عشرے” کے عنوان کے تحت منعقد ہوا، جس میں اقوامِ متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں کے قیام کے 20 سال مکمل ہونے کا بھی جشن منایا گیا۔ فورم میں عالمی رہنماؤں، پالیسی سازوں، ماہرینِ تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر مصدق ملک نے عالمی نظام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ہمیں یہ تصور دیا گیا تھا کہ دنیا ایک عالمی گاؤں ہے، تاہم آج کے حالات بڑھتی ہوئی تقسیم، کمزور ہوتی کثیرالجہتی، جنگ زدہ خطوں، تجارتی و ٹیرف تنازعات اور ماحولیاتی و ترقیاتی امور کے لیے عالمی مالی معاونت میں کمی کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض مواقع پر دوطرفہ تعاون کی جگہ یکطرفہ اقدامات لے رہے ہیں، جو عالمی امن اور انصاف کے لیے تشویش ناک ہیں وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ حقوق اور انصاف کے اصولوں کا اطلاق بلا امتیاز ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین کے حقوق، اقلیتوں کے حقوق، ماحولیاتی حقوق اور بچوں کے حقوق بنیادی اور ناقابلِ تردید ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے فلسطین اور کشمیر کے حالات کی جانب توجہ دلاتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا فلسطینیوں اور کشمیریوں کے حقوق بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام بھی اقلیتوں میں شمار ہوتے ہیں اور انہیں وہی حقوق ملنے چاہئیں جو دنیا بھر میں دیگر اقلیتوں کو حاصل ہیں۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے پانی کے حقوق کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ بالائی دریا کنار ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ زیریں دریا کنار ممالک کے حقوق کا احترام کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پانی کے منصفانہ اور منظم استعمال کے بغیر علاقائی استحکام، پائیدار ترقی اور انسانی سلامتی ممکن نہیں اپنے خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں کے قیام کے 20 سال مکمل ہونا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دنیا کو مکالمے، امن، ہم آہنگی اور باہمی احترام کے اصولوں کے لیے ازسرِنو عزم کرنا ہوگا.