ایچ ای سی اور اے این ایف کا اعلیٰ تعلیمی اداروں کو منشیات کے استعمال سے محفوظ بنانے کیلئے باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر )ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)اور اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف)نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو منشیات کے استعمال سے محفوظ بنانے کے لئے باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ایچ ای سی کے تحت اعلیٰ تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی روک تھام سے متعلق اقدامات کا جائزہ لینے اور آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کے لئے ایک اجلاس ایچ ای سی سیکرٹریٹ میں قائم مقام چیئرمین ایچ ای سی ندیم محبوب کی صدارت میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں اے این ایف کے وفد کی قیادت بریگیڈیئر عمران نے کی جبکہ ایچ ای سی، فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے سینئر افسران بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں وائس چانسلر بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی (بی این یو) لاہور ڈاکٹر معید یوسف اور وائس چانسلر جامعہ بلوچستان ڈاکٹر ظہور احمد بزئی نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کرتے ہوئے صوبائی اور نجی شعبے کے تناظر میں اپنی آراء اور تجربات سے آگاہ کیا۔اجلاس کے دوران ایچ ای سی اور اے این ایف کی جانب سے منشیات کے انسداد کے لئے جاری اقدامات، اب تک کی پیشرفت اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وائس چانسلر بی این یو لاہور نے اپنی یونیورسٹی میں رائج طلبہ معاونتی نظام اور ادارہ جاتی پالیسیوں پر مبنی جامع حکمت عملی سے آگاہ کرتے ہوئے اسے ایک قابلِ تقلید ماڈل قرار دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ منشیات کے عادی طلبہ کو مجرم کی بجائے متاثرہ فرد سمجھا جائے تاکہ انہیں مؤثر مشاورت اور بحالی کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ منشیات کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے مربوط اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اقدامات اہم ہیں تاہم اصل کامیابی ایک ایسے معاون ماحول کے قیام میں ہے جہاں طلبہ بلا خوف و جھجھک ذہنی، سماجی مسائل پر گفتگو کر سکیں جو اکثر منشیات کے استعمال کا سبب بنتے ہیں۔

قائم مقام چیئرمین ایچ ای سی ندیم محبوب نے اے این ایف کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی قیادت منشیات سے پاک تعلیمی ماحول کے لئے پائیدار اور طویل المدتی نظام وضع کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے این ایف اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے ایچ ای سی کا مقصد تعلیمی اداروں کو ایسے محفوظ مراکز میں تبدیل کرنا ہے جہاں طلبہ کی فکری نشوونما اور ہمہ جہت فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں زیرِ بحث آنے والی تجاویز پر عملدرآمد کے لئے جلد فالو اپ اجلاس منعقد کئے جائیں گے تاکہ پالیسی اور عملی اقدامات کے درمیان خلاء کو پُر کیا جا سکے اور مستقبل کی کاوشوں کو مزید مؤثر اور بامعنی بنایا جا سکے۔