سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ میں ایف بی آر حکام کی عدم موجودگی پر شدید تنقید، کاروباری صورتحال پر تشویش کا اظہار

اسلام آباد (سیپشل رپورٹر)اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر کی عدم موجودگی پر شدید احتجاج کیا گیا، جس پر سینیٹر طلحہ محمود نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “جس نے پورے ملک کا بیڑا غرق کیا وہ کہاں ہیں؟”چیئرمین کمیٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ اراکین اجلاس میں موجود ہیں اور چیئرمین ایف بی آر کی اس وقت موجودگی ضروری نہیں تھی، تاہم طلحہ محمود نے ملک میں کاروباری طبقے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کاروبار کو شدید نقصان پہنچا ہے اور معیشت دباؤ کا شکار ہے۔

اجلاس میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) اور دیگر چیمبرز کے نمائندے آن لائن شریک ہوئے۔ ایف پی سی سی آئی کی نائب صدر ایمان پراچہ نے کسٹمز نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چائے کی پتی کو تھرڈ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے جسے نارمل شیڈول میں لایا جانا چاہیے کراچی چیمبر کے نمائندے نے کہا کہ گاڑیوں اور موٹر سائیکل کے اسپیئر پارٹس کی اسمگلنگ بڑھ رہی ہے جبکہ ایمبولینس اور تھرمل پیپر جیسے اشیا کے امپورٹ کوڈز میں ابہام موجود ہے۔ انہوں نے آٹو پارٹس پر ڈیوٹی میں کمی اور علیحدہ امپورٹ کوڈز متعارف کرانے کا مطالبہ کیا اجلاس میں کامرس وزارت کے اسپیشل سیکرٹری نے کہا کہ چیمبرز کی بجٹ تجاویز کو سنا بھی جائے گا اور انہیں شامل بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ آٹو انڈسٹری کے لیے علیحدہ پالیسی تیار کی جا رہی ہے۔

سینیٹر طلحہ محمود نے ایکسپورٹ پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ایکسپورٹرز کو ریبیٹس نہیں دیے جا رہے جبکہ الٹا ٹیکسز لگا کر کاروباری طبقے کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں اور بزنس کمیونٹی کو غیر ضروری دباؤ کا سامنا ہے انہوں نے ایف بی آر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی کارکردگی نے ملک میں کاروباری ماحول کو متاثر کیا ہے اور معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔