توہین اویز ویڈیو اپلوڈ کرنے کا الزام وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دے دی

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) قومی سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) راولپنڈی نے شہری شہروز ظفر کو ٹک ٹاک پر مبینہ طور پر وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے خلاف توہین آمیز ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے الزام میں طلب کر لیا ہے۔ ایجنسی کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق شہروز ظفر کو انکوائری نمبر RE-905/26 میں 11 مئی 2026 کو این سی سی آئی اے آفس ایڈم جی روڈ، راولپنڈی میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے شہری راجہ شہروز نے ایک ویڈیو بیان میں وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی اور ان کے بیٹے پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ راجہ شہروز کا دعویٰ تھا کہ انہیں پانچ کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا جبکہ ڈپلومیٹک انکلیو میں اربوں روپے مالیت کی زمین مبینہ طور پر لیز پر دے کر وہاں “بونٹی ریسٹورنٹ” قائم کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وفاقی وزیر کے بیٹے کو مبینہ طور پر اسلام آباد پولیس کی مدد سے زمین لیز پر دلوائی گئی۔

شہروز ظفر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے اور اس معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل سے بھی انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ قومی اسمبلی کے سامنے احتجاج کریں گے۔

این سی سی آئی اے کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ طلبی پر عمل نہ کرنے کی صورت میں یہ تصور کیا جائے گا کہ متعلقہ شخص کے پاس اپنے دفاع میں کچھ پیش کرنے کے لیے موجود نہیں۔ نوٹس کے مطابق عدم پیشی پاکستان پینل کوڈ 1860 کی دفعہ 174 کے تحت قابل سزا جرم ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ان الزامات پر وفاقی وزیر ریلوے یا متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن فوری طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔