گولڈ باکس فراڈ کیس: متاثرین کا این سی سی آئی اے دفتر کے باہر دوسرے روز بھی احتجاج، کارروائی نہ ہونے کے الزامات

اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) گولڈ باکس آن لائن فراڈ کیس میں متاثرین کا احتجاج وفاقی دارالحکومت میں این سی سی آئی اے دفتر کے باہر دوسرے روز بھی جاری رہا، جبکہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری طلب کر لی گئی مظاہرین نے این سی سی آئی اے حکام پر الزام عائد کیا کہ ادارہ مبینہ طور پر ملزمان کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے اور تاحال مقدمہ درج نہیں کیا جا رہا۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ گولڈ باکس کے نام پر شہریوں سے کروڑوں روپے بٹورے گئے جبکہ اب متاثرہ افراد کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے انہیں دباؤ کا سامنا ہے۔

احتجاج کے دوران مظاہرین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کا اصل مالک بیرون ملک موجود ہے جبکہ پاکستان میں موجود شراکت دار صرف ایک فیصد حصہ دار ہے۔ ذرائع کے مطابق کمپنی کے لیے تین مختلف بینکوں میں اکاؤنٹس کھولے گئے تھے جبکہ مرکزی بینک اکاؤنٹ کا پورٹل بیرون ملک موجود مالک کے کنٹرول میں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک بینک اکاؤنٹ میں صرف آٹھ لاکھ روپے موجود ہیں جبکہ اصل سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی شراکت دار کی گرفتاری تاحال عمل میں نہیں آ سکی متاثرین نے الزام عائد کیا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں غیر قانونی کال سینٹرز کا ایک منظم نیٹ ورک سرگرم ہے جو شہریوں کو آن لائن سرمایہ کاری اور دیگر جعلی اسکیموں کے ذریعے لوٹ رہا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ ان عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔

احتجاج کے باعث این سی سی آئی اے دفتر کے باہر کشیدہ صورتحال پیدا ہو گئی، جس کے بعد پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ گولڈ باکس فراڈ میں ملوث تمام افراد کے خلاف فوری مقدمہ درج کر کے رقوم کی ریکوری یقینی بنائی جائے اور بیرون ملک موجود مرکزی ملزم کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے.