quaid e azam international hospital kidney scandle capitalnewspoint.com

قائدِ اعظم انٹرنیشنل ہسپتال غیر قانونی گردہ ٹرانسپلانٹ سکینڈل ، معروف یورالوجسٹ ڈاکٹر نادر سمیت 6 ملزمان جیل روانہ

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) قائدِ اعظم انٹرنیشنل ہاسپٹل میں غیر قانونی گردے کی پیوند کاری کا بڑا سکینڈل بے نقاب، معروف یورالوجسٹ ڈاکٹر نادر حسین سمیت 6 ملزمان گرفتار، عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے جیل روانہ کر دیا گیا ، وفاقی دارالحکومت کے نجی شعبے کے ایک بڑے ہسپتال، قائدِ اعظم انٹرنیشنل ہاسپٹل (QIH) میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے اینٹی کرپشن سرکل نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی اور غیر متعلقہ گردے کی پیوند کاری (Illegal Kidney Transplant) کا ایک منظم نیٹ ورک بے نقاب کر دیا ہے۔

اس کارروائی کے دوران ہسپتال کے نامور یورالوجسٹ اور کڈنی ٹرانسپلانٹ پروگرام کے کوآرڈینیٹر کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب مقامی عدالت نے ایف آئی اے کی جانب سے ملزمان کے مزید 12 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جیل بھیجنے کا حکم دے دیا ہے، ایف آئی اے کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر گل شہناز کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق، ایف آئی اے کی چھاپہ مار ٹیم نے اسلام آباد کے قائدِ اعظم انٹرنیشنل ہاسپٹل میں اس وقت ایک کامیاب چھاپہ مارا جب وہاں ایک غیر قانونی اور غیر متعلقہ گردے کی پیوند کاری کا آپریشن (سرجری) جاری تھا۔

تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ آپریشن تھیٹر میں شکیل ولد نصیر احمد (وصول کنندہ/Recipient) کو وسیم اکرم ولد محمد نواز (عطیہ کنندہ/Donor) کا گردہ غیر قانونی طور پر ٹرانسپلانٹ کیا جا رہا تھا۔ سرجری مکمل ہونے کے بعد دونوں مریضوں کو ہسپتال کے میڈیکل وارڈ میں منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ زیرِ علاج ہیں، چھاپہ مار ٹیم نے موقع پر کارروائی کرتے ہوئے اس غیر قانونی عمل میں ملوث دو مرکزی کرداروں کو گرفتار کر لیا، جن میں ، ڈاکٹر نادر حسین (ولد حاجی وقار حسین)، جو ہسپتال میں بطور ماہرِ یورالوجسٹ خدمات سرانجام دے رہے تھے، سید عدیل حیدر (ولد سید طاہر حسین)، جو ہسپتال کے ایچ آر کے انچارج تھے ، ‘کڈنی ٹرانسپلانٹ پروگرام’ کے باقاعدہ کوآرڈینیٹر ہیں۔

دونوں ملزمان کو حراست میں لے کر مزید قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل (ACC) کے تھانے منتقل کیا گیا، ملزمان کے خلاف ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی ایکٹ 2010 (HOTA) کی دفعات 9، 10، 11 (a) (ii) اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 109 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق، یہ محض ایک انفرادی واقعہ نہیں بلکہ انسانی اعضاء کی غیر قانونی فروخت اور پیوند کاری کا ایک بہت بڑا اور منظم مافیا (Racketeer) ہے، ملزمان کے موبائل فونز کے فرانزک اور واٹس ایپ چیٹس کے جائزے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ڈاکٹر نادر حسین اور کوآرڈینیٹر عدیل حیدر انسانی اعضاء کی اسمگلنگ میں ملوث مختلف ایجنٹوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے، جن میں محمد سلیم خان، شبیر اور عابد نامی ایجنٹ شامل ہیں۔

رپورٹ میں یہ اہم انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر نادر حسین کا مبینہ پرسنل اسسٹنٹ (PA) ‘سلیم’ اس منظم نیٹ ورک کا اصل مہرہ ہے، جو بعض دیگر نامور طبی ماہرین کی ملی بھگت سے غیر قانونی گردوں کی پیوند کاری کا دھندا چلا رہا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزم سلیم خان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، تاہم وہ روپوش ہے اور ابھی تک تفتیش میں شامل نہیں ہوا۔

ایف آئی اے کے تفتیشی افسر (IO) نے ملزمان کو سول جج فرسٹ کلاس/جوڈیشل مجسٹریٹ دفعہ 30 اسلام آباد (مغربی)، محمد مرید عباس خان کی عدالت میں پیش کیا، ملزمان محمد امتیاز ولد محمد ریاض ، عامر خان ولد اشرف خان ، محمد سجاد ولد خادم حسین ، محمد سانول ولد سائیں محمد، رحیم اللہ ولد رحمان اللہ ، ڈاکٹر نادر حسین اور کوآرڈینیٹر عدیل حیدر کو تفتیشی افسر نے عدالت میں پیش کیا اور استدعا کی کہ نیٹ ورک کے دیگر مفرور ملزمان کی گرفتاری اور مزید تفتیش کے لیے ملزمان کا 12 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے۔

تاہم، فاضل جج محمد مرید عباس خان نے کیس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنے تحریری حکم نامے میں کہا کہ، “ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ ریمانڈ کے دوران تفتیشی افسر کی جانب سے کیس میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ تفتیشی افسر ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کے لیے کوئی ٹھوس اور معقول وجوہات پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں، لہٰذا، ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کی جاتی ہے۔”

عدالت نے حکم دیا کہ ملزمان ڈاکٹر نادر حسین اور سید عدیل حیدر کو فوری طور پر جوڈیشل کردیا ، انہیں دوبارہ 5 جون 2026 کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، اس کے ساتھ ہی عدالت نے تفتیشی افسر کو سخت ہدایت جاری کی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر کیس کا چالان (رپورٹ زیرِ دفعہ 173 Cr.P.C) تیار کر کے عدالت میں جمع کرائیں، اس عدالتی فیصلے کی کاپی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ویسٹ اسلام آباد کو بھی ارسال کر دی گئی ہے.

یاد رہے کہ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل، اسلام آباد زون کی بڑی کارروائی، غیر قانونی اعضا فروشی کا نیٹ ورک بے نقاب، گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث اہم ڈاکٹر نادر گرفتار، ڈاکٹر نادر ڈاکٹر نجم قائد اعظم انٹرنیشنل ہسپتال کے ایچ ار کے مینجر عدیل شیرازی سمیت 15 ملزمان کو گرفتار کر لیا ایف ائی اے نے 11 بجے کے قریب قائد اعظم انٹرنیشنل ہسپتال پر چھاپہ مار کر مذکورہ والا ملزمان کو گرفتار کر لیا ایف ائی اے حکام تقریبا پانچ گھنٹے تک ہسپتال میں رہے اس دوران ایف ائی اے نے مذکورہ بالا ملزمان کو حراست میں لے لیا.

جبکہ سی ای او کا قائد اعظم انٹرنیشنل ہسپتال صداقت علی بیگ کو بھی حراست میں لیا گیا لیکن بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا جبکہ ڈاکٹر نادر جو کہ گردہ کے سپیشلسٹ ہیں اور شیخ زاہد ہسپتال میں بھی ملازمت کرتے ہیں اسلام اباد اپریشن کے لیے ائے تھے وہ گرفتار کر لیا ایف ائی اے نے ملزمان کو عدالت پیش کیا عدالت میں وکلا نے دلائل دیے کہ ایف ائی اے نے ایف ائی ار کی کاپی تک نہیں دے رہی ہمیں ریکارڈ کے لیے پیش کی جائے لیکن ایف ائی اے نے ایف ائی ار کی کاپی جمع کرانے کی بجائے عدالت کو بتایا کہ ابھی مزید ملزمان گرفتار کرنے ہیں.