ایچ ای سی کی 1.38 ارب روپے ادائیگی کے باوجود یونیورسٹیوں کی زمین نہ ملنے پر پی اے سی کا سی ڈی اے سے جواب طلب

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر سینیٹر شاہدہ اختر علی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے متعلق مالی سال 2010-11 اور 2013-14 کے آڈٹ اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران ایچ ای سی کی جانب سے یونیورسٹیوں کے قیام کے لیے سی ڈی اے سے خریدی گئی زمین کا قبضہ نہ ملنے کا معاملہ زیر بحث آیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے زمین کے حصول کے لیے سی ڈی اے کو ایک ارب 38 کروڑ روپے ادا کیے تھے، تاہم کئی برس گزرنے کے باوجود زمین کا قبضہ فراہم نہیں کیا گیا۔

اس موقع پر سینیٹر بلال مندوخیل نے سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے نے نہ صرف رقم وصول کی بلکہ زمین کا قبضہ بھی نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت میں سی ڈی اے نے ایچ ای سی کی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔

سینیٹر بلال مندوخیل نے مزید کہا کہ سی ڈی اے مختلف ہاؤسنگ سکیموں اور کالونیوں کو زمین فراہم کر رہا ہے لیکن تعلیمی مقاصد کے لیے خریدی گئی زمین ایچ ای سی کے حوالے نہیں کی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر زمین نہیں دی جا سکتی تو ایچ ای سی کی رقم واپس کی جائے۔

کمیٹی کے رکن نصیر احمد عباس نے بھی معاملے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ہاؤسنگ کالونیاں قائم کرنا درست ہے تو یونیورسٹیوں کے لیے زمین فراہم کرنے میں رکاوٹ کیوں ہے، انہوں نے تعلیمی شعبے کی ضروریات کو ترجیح دینے پر زور دیا۔

اجلاس میں اراکین کمیٹی نے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر چیئرمین سی ڈی اے کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کی تجویز دی تاکہ زمین کی عدم فراہمی سے متعلق تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔

اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے سی ڈی اے اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ دو ماہ کے اندر باہمی مشاورت سے معاملے کا حل نکالیں اور پیش رفت سے کمیٹی کو آگاہ کریں، کمیٹی نے واضح کیا کہ قومی مفاد اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے اس مسئلے کا جلد اور شفاف حل ضروری ہے۔