ایف آئی اے مقدمہ فارن ایکسچینج بحریہ ٹاؤن کے وائس چیف ایگزیکٹو سمیت تین ملزمان کو قید اور جرمانے کی سزا کا حکم

اسلام آباد (احسان بخاری / سپیشل رپورٹر) ایڈیشنل سیشن جج (ویسٹ) اسلام آباد نصر من اللہ بلوچ نے غیر قانونی فارن ایکسچینج کیس میں بحریہ ٹاؤن سے وابستہ 3 ملزمان کو فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت سزائیں سنا د یں سزا پانے والے ملزمان میں وائس چیف ایگزیکٹو، بحریہ ٹاؤن کرنل ر خلیل، حوالہ ایجنٹ عمران کاکا، اور پراپرٹی ڈیلر مشتاقِ احمد شامل ہیں .

ملزمان پر بحریہ ٹاؤن کے مختلف پروجیکٹس کیلئے غیر قانونی طریقے سے رقم بھجوانے کا الزام تھا ، عدالت کیجانب سے جرم ثابت ہونے پر ملزمان کو سزائیں سنائی دی گئی ، اسلام آباد کی عدالت نے غیر قانونی فارن ایکسچینج سے متعلق مقدمے میں دو ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے ایک، ایک سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی، عدالت نے سزا کے ساتھ غیر قانونی سرگرمی سے متعلق ضبط شدہ کرنسی، سونا، چاندی یا دیگر املاک کی ضبطی کا بھی حکم دیا۔

دستاویزات کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج (ویسٹ) اسلام آباد نصر من اللہ بلوچ نے 9 جولائی 2026 کو مقدمہ تھانہ ایف آئی اے سی بی سی، زیر دفعہ 23 فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 کا فیصلہ سنایا ، عدالتی حکم کے مطابق سزا پانے والے ملزمان میں:

خلیل الرحمن ولد راجہ محمد اقبال، رہائشی بحریہ ٹاؤن، راولپنڈی.
محمد عمران ولد عبدالغفور، رہائشی ڈی اے وی کالج روڈ، راولپنڈی۔
عدالت نے دونوں ملزمان کو درج ذیل سزا سنائی:

جرم سے متعلق کرنسی، سونا، چاندی، سیکیورٹیز یا دیگر املاک کی ضبطی ، عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو ہر ملزم کو مزید دو ماہ قیدِ سادہ بھگتنا ہوگی، فیصلے میں ملزمان کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382-B کا فائدہ بھی دیا گیا، جس کے تحت دورانِ حراست گزارا گیا عرصہ سزا میں شمار کیا جائے گا ، عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے وارنٹ آف کمیٹمنٹ انڈر سینٹنس کے ذریعے سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل راولپنڈی کو ہدایت کی گئی ہے کہ دونوں سزا یافتہ ملزمان کو اپنی تحویل میں لے کر عدالتی احکامات کے مطابق قید رکھا جائے، جب تک عدالت کی جانب سے مزید احکامات جاری نہ ہوں۔

یاد رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے کمرشل بینکنگ سرکل (CBC) اسلام آباد نے غیر قانونی حوالہ ہنڈی، غیر دستاویزی مالی لین دین اور فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں ایک شخص کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، ایف آئی آر 9 جولائی 2025 کو درج کی گئی،
ایف آئی آر کے مطابق ملزم محمد مشتاق ولد نذیر احمد، رہائشی سفاری ولاز، بحریہ ٹاؤن اسلام آباد، کے خلاف انکوائری نمبر 108/2025 مکمل ہونے کے بعد شواہد کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا۔

تفتیش کے دوران الزام سامنے آیا کہ ملزم 2015 سے مسلسل بڑے پیمانے پر حوالہ/ہنڈی کے ذریعے غیر قانونی اور غیر دستاویزی مالی لین دین میں ملوث رہا، جو فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 (ترمیمی 2020) کی مختلف دفعات کی خلاف ورزی ہے، ایف آئی اے کے مطابق ملزم کے بینکنگ ریکارڈ اور دیگر مالی دستاویزات کے تجزیے سے نمایاں بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔

مزید یہ کہ اثاثوں کی جانچ پڑتال کے دوران ملزم کی آمدن اور مالی حیثیت کے مقابلے میں غیر معمولی اور غیر واضح اثاثوں کا انکشاف ہوا۔ تفتیش میں ملزم کے شناختی کارڈ سے منسلک تقریباً 40 جائیدادوں کی نشاندہی بھی کی گئی، جن میں بحریہ ٹاؤن راولپنڈی، عثمان شاپنگ کمرشل، الغریر گیگا اسلام آباد اور دیگر مقامات پر پلاٹس، دکانیں، اپارٹمنٹس اور رہائشی مکانات شامل ہیں۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم کے مالی ریکارڈ سے 93 مشتبہ کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹس (CTRs) ریگولیٹر کو رپورٹ کی گئیں، جو غیر متعلقہ فریقین کے ساتھ مالی لین دین کی نشاندہی کرتی ہیں، ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ یہ سرگرمیاں حوالہ ہنڈی کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہونے کی عکاسی کرتی ہیں اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ملزم کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے ، ایف آئی اے نے ملزم کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 (ترمیمی 2020) کی دفعات 4، 5، 8، 9 اور 23 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا .