امریکا ایران کشیدگی کے باعث عالمی منڈیاں دباؤ کا شکار، خام تیل کی قیمتیں کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی اور مالیاتی منڈیوں میں شدید بے یقینی پیدا ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جبکہ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان دیکھا گیا۔

جمعے کے روز عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برینٹ خام تیل 3.10 ڈالر اضافے کے بعد 3.68 فیصد کی تیزی کے ساتھ 87.33 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 3.14 ڈالر اضافے سے 82.09 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

دیگر اقسام کے خام تیل میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ مربان خام تیل 3.91 فیصد اضافے کے ساتھ 80.77 ڈالر فی بیرل جبکہ ڈبلیو ٹی آئی مڈلینڈ 3.10 فیصد اضافے کے ساتھ 81.81 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی توانائی کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات ہیں۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ تنازع مزید پھیلنے کی صورت میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جو عالمی خام تیل کی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔

توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا اثر دیگر مارکیٹس پر بھی پڑا۔ امریکی گیسولین فیوچرز میں 3.86 فیصد جبکہ ڈچ ٹی ٹی ایف نیچرل گیس میں 3.41 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح امریکی نیچرل گیس کی قیمتوں میں 1.01 فیصد اور جاپان-کوریا ایل این جی بینچ مارک میں 0.92 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سرمایہ کاروں نے حصص مارکیٹوں سے سرمایہ نکال کر محفوظ اثاثوں کا رخ کیا۔ امریکا میں وال اسٹریٹ کا آغاز مندی کے ساتھ ہوا، جہاں ٹیکنالوجی اور گروتھ اسٹاکس میں کمی کے باعث ایس اینڈ پی 500، ناسڈیک کمپوزٹ اور ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج دباؤ کا شکار رہے، تاہم توانائی کمپنیوں کے حصص میں بہتری دیکھی گئی کیونکہ خام تیل کی بلند قیمتوں سے ان کی آمدنی میں اضافے کی توقعات بڑھ گئیں۔

یورپی مارکیٹس میں بھی منفی رجحان رہا۔ جرمنی کے ڈیکس اور فرانس کے کیک 40 انڈیکس میں کمی ہوئی، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات یورپ کی معاشی بحالی کو متاثر کر سکتے ہیں, برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 100 نسبتاً بہتر رہا جسے بڑی تیل کمپنیوں کے حصص میں اضافے سے سہارا ملا ، ایشیا میں جاپان کے نکی 225، جنوبی کوریا کے کوسپی اور چین کی بڑی اسٹاک مارکیٹس میں بھی گراوٹ دیکھی گئی۔ ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

پاکستانی معیشت پر ممکنہ اثرات:

خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار رہیں تو پاکستان کا درآمدی بل بڑھ سکتا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ وسیع ہو سکتا ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیا، کیونکہ مارکیٹ شرکا بلند توانائی قیمتوں کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ توانائی کی بڑھتی لاگت روپے اور عوامی مالیات پر بھی دباؤ بڑھا سکتی ہے ، بھارت میں بھی سرمایہ کار محتاط ہو گئے ہیں، جہاں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی، درآمدی بل اور مرکزی بینک کی مالیاتی پالیسی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک یہ واضح نہیں ہو جاتا کہ امریکا ایران کشیدگی محدود رہے گی یا ایک وسیع علاقائی تنازع کی شکل اختیار کرے گی۔ ماہرین کے مطابق خلیجی خطے سے تیل کی فراہمی میں کسی بھی بڑی رکاوٹ سے عالمی مہنگائی میں مزید اضافہ اور مالیاتی منڈیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔