نئی دہلی (ویب ڈٰیسک) امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر جاری احتجاج کے تناظر میں بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، دعوے کے مطابق انہوں نے اپنا استعفیٰ سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جبکہ احتجاج کرنے والے طلبہ اور منتظمین نے اسے اپنی تحریک کی کامیابی قرار دیا ہے۔
مبینہ استعفے میں دھرمیندر پردھان نے کہا کہ وہ گزشتہ چار دہائیوں سے طالب علم، استاد اور تعلیمی اصلاحات سے وابستہ رہے ہیں اور ہمیشہ ایک مضبوط اور جامع تعلیمی نظام کے حامی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک کے نوجوانوں کی خواہشات، جذبات اور جائز مطالبات کا احترام کرتے ہیں ، انہوں نے اپنے بیان میں لکھا کہ مئی 2026 میں ہونے والے NEET-UG امتحان میں بے ضابطگیوں کی اطلاعات ملنے پر حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تحقیقات سی بی آئی (CBI) کے سپرد کیں، امتحان منسوخ کیا اور دوبارہ امتحان کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔
دھرمیندر پردھان کے مطابق ان کی کوشش رہی کہ امتحانی مافیا کی وجہ سے کسی قابل طالب علم کا مستقبل متاثر نہ ہو اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہونے دی جائے، انہوں نے مزید کہا کہ 16 جولائی کو جاری ہونے والے نتائج میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے کامیابی حاصل کی، تاہم اس دوران بعض عناصر نے طلبہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، جس پر انہیں افسوس ہوا۔
انہوں نے اپنے مبینہ استعفے میں کہا کہ نوجوان بھارت کی اصل طاقت ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ملک کی نوجوان نسل سیاسی یا قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے وزیراعظم کو اپنا استعفیٰ ارسال کیا ، دوسری جانب احتجاج کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے ساتھ ان کے تمام مطالبات تحریری طور پر تسلیم کر لیے گئے ہیں، جس کے بعد مظاہرین احتجاج ختم کر کے اتوار کو ملک بھر میں پرامن مشعل بردار مارچ کریں گے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے صدر ابھیجیت دیپکے نے اپنے ردعمل میں کہا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ جمہوری طریقے سے پرامن جدوجہد کے ذریعے بھی حکومت کو فیصلے تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے خلاف مئی 2026 سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج جاری تھا۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ امتحانی نظام میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں، لاٹھی چارج، واٹر کینن کے استعمال اور متعدد افراد کی حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

