حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی نے ملک گیر احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی نوجوانوں کی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے حکومت سےکامیاب مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کرنےکا اعلان کردیا، بھارتی یونین منسٹر جے پی نڈا اور مرکزی حکومت کے وزیر جتیندر سنگھ سے مذکرات کے بعد ان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ ہمارے تمام مطالبات تسلیم کرلیےگئے ہیں، ہم تمام مظاہرین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر پرامن طریقے سے اپنا احتجاج ختم کر دیں۔

ترجمان سی جے پی کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہمارے تمام مطالبات تسلیم کرلیے ہیں، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوچکے ہیں، نیٹ (NEET) پرچہ لیک ہونے کے باعث خودکشی کرنے والے طلبا کے اہلخانہ کو معاوضہ دیا جائےگا۔ سی جے پی کے کارکنوں کے خلاف ملک بھر درج تمام ایف آئی آر واپس لے لی جائیں گی۔

ترجمان کے مطابق حکومت نے تعلیم میں اصلاحات سے متعلق کاکروچ جنتا پارٹی کے 5 نکاتی ایجنڈے سے بھی اتفاق کرلیا ہے، اس حوالے سے مزید مذاکرات آئندہ بھی جاری رہیں گے ، ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے وعدہ کیا ہےکہ مستقبل میں بھی اس حوالے سے سی جے پی کی قیادت اور کارکنوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ اس حوالے سے حکومت آئندہ منگل تک تحریری طور پر ضمانت دےگی۔

خیال رہےکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے مئی 2026 سے دارالحکومت نئی دہلی میں احتجاج جاری تھا اور اس دوران بھارت کی نامور شخصیت سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال بھی کی تھی ، کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے 20 جولائی کو سب کو جنتر منتر پہنچنے کی کال دی گئی جس پر ہزاروں کی تعداد میں نوجوان احتجاج میں پہنچ گئے تاہم بھارتی پولیس کی جانب سے نوجوانوں پر بدترین لاٹھی چارج کیا گیا اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، درجنوں نوجوانوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔

بھارتی وزیراعظم نے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کرکے نوجوانوں کو احتجاج ختم کرنےکی ترغیب دی لیکن مودی سرکار کے تمام اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود بھارتی نوجوان وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ڈٹے رہے اور حکومت کا فاسٹ ٹریک عدالتیں بنانے کا مطالبہ مسترد کردیا، بھارت کی اپوزیشن جماعتیں اور سیاسی و سماجی شخصیات بھی نوجوان مظاہرین کے مطالبات کو جائز قرار دیتی رہیں۔