اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری کے عمل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے مجموعی طور پر 12 اظہاراتِ دلچسپی (EOIs) نجکاری کمیشن میں جمع کرا دیے ہیں۔
نجکاری کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سرمایہ کاروں نے فیسکو کے 51 فیصد سے 100 فیصد تک حصص، انتظامی کنٹرول سمیت حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، موصول ہونے والی درخواستوں میں ترکیہ کی 3، چین کی ایک اور پاکستان کی 8 معروف کمپنیوں اور کاروباری گروپس نے حصہ لیا ہے۔
اظہارِ دلچسپی جمع کرانے والی کمپنیوں میں Aktor Elektrik، Genvera Enerji (Celik Group)، Cengiz Enerji (ترکیہ)، Jiang Xi Electric Power Construction (چین)، جبکہ پاکستان سے Engro Energy، Sapphire Fibers، Hub Power Holdings اور Lucky Cement، Shirazi Investments (Atlas Group)، Maple Leaf Cement اور Kohinoor Textile، Nishat Mills اور Pak Elektron Limited، Artistic Milliners اور K-Electric شامل ہیں۔
نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران منعقد کیے گئے ملکی و بین الاقوامی روڈ شوز کے باعث سرمایہ کاروں کی جانب سے نمایاں دلچسپی سامنے آئی، جو پاکستان کے توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور حکومت کے شفاف نجکاری عمل پر اعتماد کا اظہار ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی نے کہا کہ فیسکو کی نجکاری میں سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی ایک اہم سنگ میل ہے اور یہ بجلی کی تقسیم کے شعبے میں موجود مواقع اور حکومت کے شفاف، مسابقتی اور پیشہ ورانہ نجکاری عمل پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ مرحلے میں پری کوالیفائی ہونے والے سرمایہ کاروں کے ساتھ ڈیو ڈیلیجنس کا عمل مکمل کیا جائے گا، جس کے بعد انہیں ورچوئل ڈیٹا روم (VDR) تک رسائی دی جائے گی، ان کے مطابق نجکاری کا مقصد بجلی کی تقسیم کے نظام کو جدید بنانا، لائن لاسز میں کمی، صارفین کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور توانائی کے شعبے کو مالی طور پر مزید مستحکم بنانا ہے۔
اعلامیے کے مطابق فیسکو بیچ-I میں شامل تین ڈسکوز میں سے ایک ہے، جبکہ گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (GEPCO) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (IESCO) کے لیے اظہاراتِ دلچسپی جمع کرانے کی آخری تاریخیں بالترتیب 21 اگست 2026 اور 7 ستمبر 2026 مقرر کی گئی ہیں۔
نجکاری کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت کے توانائی اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت نجکاری کا پورا عمل شفاف، کھلے اور مسابقتی انداز میں مکمل کیا جائے گا تاکہ عوامی مفاد کا بھرپور تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

