اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مختلف ہائیکورٹس میں ایڈیشنل ججز کی تقرری اور بعض ایڈیشنل ججز کی توثیق کی منظوری دے دی ، صدرِ مملکت نے لاہور ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تقرری کی منظوری دی، انہوں نے سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے بعض ایڈیشنل ججز کی بطور مستقل ججز توثیق کی منظوری بھی دی ہے۔
آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کو وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے مساوی کرنے کی منظوری دے دی ، صدرِ مملکت نے ہائیکورٹ ججز کے رخصت، پنشن اور مراعات سے متعلق 1997 کے حکم میں ترامیم کی منظوری بھی دی ، اس کے علاوہ ہارون اختر کو وزیرِ اعظم کا مشیر برائے صنعت و پیداوار مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔
وزارت قانون نے صدر مملکت کی منظوری کے بعد ہائیکورٹس میں تعینات کیے جانیوالے ججز کی تقرری کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے، ایڈیشنل ججوں کی تقرری ان کے حلف اٹھانے کی مدت سے ایک سال کے لیے ہوگی ، بلوچستان ہائی کورٹ کے لیے تین ایڈیشنل ججوں کی تقرری کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا جن میں ایڈووکیٹ سپریم کورٹ رؤف عطا، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اللہ داد روشن، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالقیوم لہری شامل ہیں۔
وزارت قانون نے 10 ایڈیشنل ججوں کی تقرری کا بھی نوٹیفکیشن جاری کیا، غلام سرور نہنگ، محمد اجمل خان زاہد، عامر عجم ملک، شیریں عمران، اسد علی باجوہ، محمد امجد پرویز،منور اقبال دوگل، فرہاد علی شاہ، محمد عثمان غنی، خالد ابن عزیز لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج تعینات کیے گئے۔
سندھ ہائی کورٹ میں محمد ہمایوں خان، سریش کمار، ڈاکٹر شاہنواز میمن کو ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا، جبکہ ایڈیشنل جج جسٹس طارق محمود باجوہ کو مستقل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اور ایڈیشنل جج خالد حسین شاہانی کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کر دی گئی۔

