کسٹمز انسپکٹر شاہ زیب کا شیشہ سینٹر مالک سے کاروباری تعلق سامنے آگیا

اسلام آباد (احسان بخاری/ سپیشل رپورٹر) علی ٹریڈنگ موٹر سائیکل کمپنی راولپنڈی کے مالکان کے خلاف درج مقدمہ میں عدالت سے ضمانت دلوانے ہراساں نہ کرنے کے معاملے میں پانچ لاکھ روپے رشوت لینے والے کسٹم کے انسپکٹر شاہ زیب اور شیشہ سینٹر کا مالک بزنس پارٹنر نکلے ایف ائی اے نے گرفتاری کے دوران شیشہ سینٹر MYST Café کے مالک کو چھوڑ دیا گیا گر فتار ملزمان کا ایف آئی اے کو دیگرکسٹم افسران بارے اہم انکشاف.

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے کسٹم کے دو انسپکٹرز جن میں شاہ زیب ، کر سٹوفر، اور سپرنٹنڈنٹ فخر گوندل کے خلاف پانچ لاکھ روپے کے مبینہ رشوت کے مقدمہ میں گرفتاری ایف آئی اے نے درج کیا تھا جب ایف آئی اے نے سیکٹر آئی ایٹ اسلام آباد کے MYST Café میں چھاپہ مارا تو اس وقت انسپکٹر شاہ زیب کے ساتھ اس کا بزنس پاٹنر بھی موجود تھا .

کسٹم انسپکٹر کا شراکت دار تھا منظر سے غائب ہوگیا ا یف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ شیشہ سنٹر پر لین دین کیا جاتا تھا، ذرائع نے بتایا کہ جن لوگوں سے رقم وصول کی جاتی تھی وہ اسی شیشہ سنٹر کے مالک کے اکائونٹ میں جاتی تھی تاہم ایف آئی اے نے وقوعہ کے روز کسٹم انسپکٹر شاہ زیب کے بزنس پارٹنر کو تفتیش کر کے مبینہ طور پر چھوڑ دیا تھا جس کا اکاونٹ استعمال ہو تا تھا.

ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ کسٹم انسپکٹرز جن میں شاہ زیب ، کر سٹوفر، اور سپرنٹنڈنٹ فخر گوندل مختلف مقدمات کی تفتیش میں بھاری نذرانے افسران بالا کے نام پر طے کرتے تھے ، جس کی تفتیش جاری ہے ، ایف آئی اے نے مذکورہ بزنس پارٹنر کے حوالے سے تفتیش جاری ہے لیکن وہ تاحال غائب ہے اسلام آباد کسٹم میں ملزمان کے معاونین کے بارے میں انکشافات کردیئے ہیں ایف آئی اے دیگر کسٹم افسران بارے مصروف تفتیش ہے۔

پانچ لاکھ روپے کے مبینہ رشوت کے مقدمہ میں گرفتاری کے بعد کسٹم اسلام آباد کے دفتر میں کھلبلی مچ گئی ہے ، کیپیٹل نیوز پوائنٹ نے کسٹم کے انسپکٹر شاہ زیب اور شیشہ سینٹر کے بزنس پارٹنر کو حراست میں لینے بعد ازاں چھوڑنے کے حوالے سے ایف آئی اے سے موقف جاننے کے لئے ایک سینیر آفسر سے تحریری رابطہ کیا لیکن مذکورہ افسر نے جواب دینے کی بجائے خاموشی اختیار رکھی۔