اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) نے پاکستان کے قومی مربوط توانائی منصوبہ (National Integrated Energy Plan) 2027 تا 2060 کے ہائی لیول ڈیزائن کو کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں پیش کیا، جسے کمیٹی نے منظور کرلیا, یہ منظوری پاکستان میں طویل المدتی، مربوط اور مختلف شعبوں پر مشتمل توانائی منصوبہ بندی کی جانب اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
قومی مربوط توانائی منصوبے کا مقصد توانائی کے مختلف شعبوں کو الگ الگ دیکھنے کے روایتی طریقہ کار سے آگے بڑھتے ہوئے ایک جامع منصوبہ بندی کا فریم ورک فراہم کرنا ہے, اس کے تحت وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ اور مشترکہ منصوبہ بندی کو فروغ دیا جائے گا تاکہ توانائی کے وسائل، بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔
منصوبے کا ہائی لیول ڈیزائن چار بنیادی ستونوں انرجی، اکنامکس، ایکویٹی اور انوائرمنٹ پر مبنی ہے, انرجی کے تحت محفوظ، قابلِ اعتماد اور مضبوط توانائی نظام پر توجہ دی جائے گی، جبکہ اکنامکس کا مقصد مسابقتی اور مالی طور پر پائیدار توانائی کے شعبے کا قیام ہے۔
ایکویٹی کے ستون کے تحت توانائی تک مساوی، قابلِ رسائی اور منصفانہ رسائی کو یقینی بنانے کے ساتھ توانائی کی منتقلی کے عمل کو جامع بنانے پر توجہ دی جائے گی, انوائرمنٹ کے تحت پائیدار، کم کاربن اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے قابل توانائی کے مستقبل کی بنیاد رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
قومی مربوط توانائی منصوبے سے صارفین اور ملکی معیشت کو بھی نمایاں فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے, وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مربوط منصوبہ بندی سے فیصلوں میں موجود تقسیم کم ہوگی اور ملک میں دستیاب توانائی کے وسائل کو زیادہ مؤثر اور بہتر انداز میں استعمال کرنے میں مدد ملے گی۔
توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی بہتر منصوبہ بندی سے غیر ضروری منصوبوں کی تکرار سے بچنے، نظام کی کارکردگی بہتر بنانے اور مجموعی طور پر توانائی کی لاگت کم کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
عام صارف کے لیے منصوبے کا بنیادی مقصد قابلِ اعتماد، سستی اور ہر فرد کے لیے قابلِ رسائی توانائی کی فراہمی یقینی بنانا ہے, مربوط منصوبہ بندی کے ذریعے مقامی توانائی کے وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور انرجی اسٹوریج سمیت جدید ٹیکنالوجیز کو نظام میں شامل کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
منصوبے کے تحت جہاں معاشی اور تکنیکی طور پر ممکن ہو، مہنگی درآمدی توانائی پر انحصار کم کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی, اس کے ساتھ پاکستان کے مستقبل کے توانائی نظام کو ماحولیاتی پائیداری اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا۔
کابینہ کمیٹی برائے توانائی کی جانب سے ہائی لیول ڈیزائن کی منظوری کو قومی مربوط توانائی منصوبہ 2027 تا 2060 کی تشکیل کی جانب اہم ابتدائی قدم قرار دیا گیا ہے, یہ منصوبہ پاکستان کے لیے محفوظ، معاشی طور پر پائیدار، منصفانہ اور ماحول دوست توانائی کے مستقبل کے لیے طویل المدتی روڈ میپ فراہم کرے گا۔

