Students Protest at Sarhad University, Allege Security Official Opened Fire and Assaulted Students CapitalNewsPoint.com

سرحد یونیورسٹی میں طلبہ کا احتجاج، سیکیورٹی اہلکار کی مبینہ ہوائی فائرنگ اور تشدد کا الزام

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وفاقی دارالحکومت کے ٹی چوک روات کے قریب سرحد یونیورسٹی میں طلبہ کا احتجاج ایچ او ڈی کو واپس لایا جائے ورنہ احتجاج جاری رہے گا جس پر ایک سیکیورٹی اہلکار موقع پر پہنچ گیا اور اس نے طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ہوائی فائرنگ کی اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی فوجی اہلکار باوردی تھا ہوائی فائرنگ کرتا رہا پولیس کی موجودگی میں جس پر طلبہ نے بھاگ کر جان بچائی معاملے کے اصل حقائق سے پردہ اٹھا دیا گیا .

طلبہ نے بتایا کہ معاملہ ایچ او ڈی اور خاتون کے درمیان ہراساں کرنے کا معاملہ تھا جس کا گزشتہ جمعہ کے روز راضی نامہ ہو گیا تھا بعد سیکورٹی اہلکار اسلحہ سے لیس ہو کر یونیورسٹی پہنچ گیا اور اس نے طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ہوائی فائرنگ کی جس پر پولیس نے اسے حراست میں لے لیا طلباء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس فوجی افسر کو ہتھکڑی لگائی جائے اور مقدمہ درج کیا جائے لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ اسے ہتھکڑی نہیں لگائی جا سکتی جس پر طلبہ نے شدید احتجاج جاری رکھا

کیپیٹل نیوز پوائنٹ میں سرحد یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ خاتون افسر یونیورسٹی میں اکاؤنٹنٹ ہے چند روز قبل ان کو ہراساں کرنے کا معاملہ تھانے میں گیا تاہم جمعہ کے روز دونوں فریقین میں صلح ہو گئی تھی تاہم مذکورہ سیکیورٹی اہلکار خاتون کا خاوند ہے اور اس نے سوموار کے روز یونیورسٹی میں اگئے جس پر سارا احتجاج چل رہا ہے طلبہ کا کہنا ہے کہ ایچ او ڈی کو واپس لایا جائے