Aimal Wali Khan Awami National Party CapitalNewsPoint.com

ایمل ولی خان کا 18ویں ترمیم پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ، پارلیمنٹ کی بالادستی اور صوبائی حقوق پر زور

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے اسلام آباد کے علاقے ای الیون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان میں آئین کی بالادستی، جمہوریت اور صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ 18ویں ترمیم پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور وسائل کی آئین کے مطابق منصفانہ تقسیم کی جائے۔

سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ دنیا کی ہر قوم کو ایک درست نظام کی ضرورت ہوتی ہے اور موجودہ صورتحال میں پاکستان کو بھی ایک مؤثر اور درست نظام درکار ہے، انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، تاہم ایران اور امریکا کے معاملے پر پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہیں، لیکن ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی اسی جذبے اور مؤثر سفارتی حکمت عملی کے تحت کام کیا جانا چاہیے۔

افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے اے این پی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی خراب صورتحال سے دوچار ہیں ، سرحدوں کی بندش اور تجارت متاثر ہونے سے ہزاروں افراد بے روزگار ہوئے ہیں ، ان کا دعویٰ تھا کہ اطلاعات کے مطابق نوجوانوں کو ماہانہ 15 ہزار روپے دے کر مسلح کیا جا رہا ہے، جو انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ ان کے والد نے کئی دہائیاں قبل افغانستان کے حوالے سے خبردار کیا تھا کہ وہاں کی آگ پاکستان تک نہ پہنچ جائے، ان کے بقول پاکستان کا ہر انچ اتنا ہی مقدس ہے جتنا وفاقی دارالحکومت اور ملک کے دیگر علاقے، اور شہری صرف اس ملک کے باشندے نہیں بلکہ اس کے رکھوالے بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اے این پی آئین، جمہوریت اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ کسی سے ذاتی اختلاف نہیں، تاہم سیاسی اختلاف کرنا جمہوری حق ہے ، ذاتی دشمنی اور تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تنقید کرتے ہوئے سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کی صورت میں پاکستان میں فوری اضافہ کردیا جاتا ہے، لیکن عالمی قیمتیں کم ہونے پر حکومت اسی رفتار سے عوام کو ریلیف نہیں دیتی۔

اے این پی صدر نے کہا کہ ان کی جماعت کو عوام کی نمائندگی کے مختلف فورمز پر محدود کیا گیا جبکہ قیادت کو سکیورٹی خطرات سے آگاہ کیا جاتا ہے ، ان کا سوال تھا کہ اگر دیگر جماعتوں کے رہنما خطرناک علاقوں میں جا سکتے ہیں تو اے این پی کی قیادت کو عوام سے رابطے سے کیوں روکا جاتا ہے ، انہوں نے عوام سے رابطے کو اپنا بنیادی جمہوری حق قرار دیا۔

موجودہ ملکی صورتحال کو بیان کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ پاکستان کو بار بار نازک موڑ پر کھڑا قرار دیا جاتا ہے، تاہم ان کے مطابق ملک ایک ایسے ’’ٹائم بم‘‘ کی مانند ہے جس میں عوام کا ریاست پر عدم اعتماد، مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کا بارود موجود ہے، انہوں نے وسائل کی آئین کے مطابق منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم پر مکمل عملدرآمد کیا جائے ، ان کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع کی صورتحال تشویشناک ہے اور وسائل اسلام آباد سے پشاور اور پھر عوام تک پہنچنے چاہئیں۔

سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ تعلیم، صحت اور روزگار فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور ریاستی وسائل و انتظامی صلاحیت کا عملی اثر عوام کی زندگیوں میں نظر آنا چاہیے۔ انہوں نے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور سیاسی و غیر سیاسی قیدیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا بھی مطالبہ کیا ، پارلیمنٹ کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے اے این پی صدر نے کہا کہ بدقسمتی سے اس وقت پارلیمنٹ بالادست نہیں، وقت آگیا ہے کہ جس ادارے کا جو کام ہے وہی کرے اور ملک کا نظام آئینی حدود کے مطابق چلایا جائے۔

نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے ایمل ولی خان نے کہا کہ نئے صوبے عوام کی خواہش اور مطالبے کی بنیاد پر بننے چاہئیں، دفاع کی بنیاد پر صوبے نہیں بنتے۔ انہوں نے پختونوں کو تقسیم در تقسیم کرنے اور کشمیر و گلگت بلتستان کے انتظامی معاملات پر بھی سوالات اٹھائے ، ملک میں دہشت گردی کے واقعات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عوام اور ریاست کو متحد ہوکر ایک مضبوط دیوار بننا ہوگا ، ان کا کہنا تھا کہ اے این پی اس وقت حکومت میں نہیں، اس لیے موجودہ حالات کی ذمہ داری موجودہ حکمرانوں کو قبول کرنی چاہیے۔

ایمل ولی خان نے واضح کیا کہ اے این پی کو وردی یا کسی ادارے سے نفرت نہیں بلکہ بعض پالیسیوں اور نظریات سے اختلاف ہے ، انہوں نے کہا کہ دہشت گرد آج بھی اے این پی کو اپنا مخالف سمجھتے ہیں ، آخر میں اے این پی صدر نے کہا کہ ان کی جماعت آئین، جمہوریت، پارلیمنٹ کی بالادستی اور عوام کے بنیادی حقوق کے لیے اصولی سیاست جاری رکھے گی ، ان کے مطابق اے این پی ایسا پاکستان چاہتی ہے جو مضبوط اور پرامن ہو اور جہاں ہر شہری کے ساتھ مساوی سلوک اور احترام یقینی بنایا جائے۔