اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وزارتِ سمندر پار پاکستانیز و ترقیِ انسانی وسائل نے ملک بھر میں ورک پلیس کو مزید محفوظ اور صحت مند بنانے کے لیے جامع قومی آکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ (او ایس ایچ) فریم ورک کی تیاری اور اس پر عملدرآمد کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں ، مجوزہ فریم ورک کا مقصد رسمی اور غیر رسمی دونوں شعبوں سے وابستہ کارکنوں کے تحفظ کو مضبوط بنانا اور موسمیاتی تبدیلی، ٹیکنالوجی میں تیز رفتار پیش رفت اور کام کے بدلتے ہوئے طریقوں سے پیدا ہونے والے نئے پیشہ ورانہ خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنا ہے۔
اس سلسلے میں قومی آکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ پالیسی کے مسودے پر قومی مشاورتی مکالمہ آج وزارتِ سمندر پار پاکستانیز و ترقیِ انسانی وسائل، اسلام آباد میں منعقد ہوا، جسے بین الاقوامی ادارہ محنت (آئی ایل او) کی تکنیکی معاونت حاصل تھی۔ مشاورتی مکالمے میں آئی ایل او کے نمائندوں، کارکنوں اور آجروں کی تنظیموں، وزارت کے حکام، وفاقی و صوبائی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین نے شرکت کی۔
مشاورتی عمل کے دوران تمام شرکاء کو مجوزہ پالیسی سے متعلق اپنی آراء، تحفظات اور تجاویز پیش کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا گیا۔ شرکاء نے کام کی جگہوں پر درپیش عملی مسائل، پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کے طریقہ کار اور ایک جامع، مؤثر اور قابلِ عمل قومی فریم ورک کی تشکیل کے لیے ضروری اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ مشاورت کے دوران سامنے آنے والی تجاویز اور آراء کو کارکنوں، آجروں اور متعلقہ اداروں کی ضروریات کے مطابق پالیسی کو مزید بہتر بنانے کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔
مجوزہ فریم ورک رسمی اور غیر رسمی معیشت سے وابستہ کارکنوں کے وسیع حلقے کا احاطہ کرتا ہے، جبکہ خواتین، نوجوانوں، عمر رسیدہ کارکنوں، خصوصی افراد، تارکینِ وطن کارکنوں، گھروں سے کام کرنے والے افراد، گھریلو ملازمین، زرعی مزدوروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے وابستہ کارکنوں کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ فریم ورک کا مقصد حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنا کر کام کی جگہوں پر حادثات، جسمانی نقصانات اور پیشہ ورانہ صحت سے متعلق خطرات میں کمی لانا ہے۔
فریم ورک میں آکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے روایتی دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے شدید گرمی، موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرات، کیمیائی و حیاتیاتی خطرات، تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی اور کام کے نئے طریقوں جیسے ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
وفاقی سیکرٹری وزارتِ سمندر پار پاکستانیز و ترقیِ انسانی وسائل ندیم اسلم چوہدری نے کہا کہ ملکی معیشت کو آگے بڑھانے والی افرادی قوت کے تحفظ کے بغیر پائیدار معاشی ترقی کا حصول ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط قومی او ایس ایچ فریم ورک نہ صرف کام کی جگہوں کو محفوظ بنانے میں معاون ہوگا بلکہ ادارہ جاتی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے ساتھ عالمی معیشت میں پاکستان کی ایک ذمہ دار اور مسابقتی ملک کی حیثیت کو بھی مزید مستحکم کرے گا۔
انہوں نے موجودہ اور مستقبل میں سامنے آنے والے پیشہ ورانہ خطرات سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے ایک عملی اور مربوط قومی فریم ورک کی تشکیل کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ، پاکستان میں آئی ایل او کے کنٹری ڈائریکٹر گیئر تھامس ٹونسٹول نے پالیسی کی تیاری میں شواہد اور وسیع مشاورت پر مبنی طریقہ کار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کا آغاز سائنسی شواہد اور صوبائی سطح پر وسیع مشاورت سے کیا گیا، جبکہ آجروں اور کارکنوں کو بھی اس مکالمے میں بھرپور انداز میں شریک کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس عمل کا مقصد محض ایک پالیسی دستاویز تیار کرنا نہیں بلکہ ایسا قابلِ عمل فریم ورک تشکیل دینا ہے جسے پاکستان بھر کے متعلقہ ادارے اور کام کی جگہیں مؤثر طور پر نافذ کر سکیں۔
یہ اقدام آکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ سے متعلق عالمی معیارات، بالخصوص آئی ایل او کنونشنز نمبر 155 اور 187 سے ہم آہنگ ہے۔ مشاورت میں شریک فریقین نے آکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ سے متعلق بنیادی آئی ایل او کنونشنز کی توثیق کے عمل کو آگے بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو حاصل انتظامی خودمختاری کو مدنظر رکھتے ہوئے مجوزہ فریم ورک میں عملدرآمد کی بنیادی ذمہ داری صوبائی حکام کو سونپنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ وفاقی حکومت قومی سطح پر رابطہ کاری، مشترکہ ترجیحات، معلومات و اعداد و شمار کے تبادلے اور بین الصوبائی تعاون میں سہولت فراہم کرے گی۔
اس فریم ورک کو حکومت، آجروں اور کارکنوں کے درمیان مسلسل سہ فریقی سماجی مکالمے کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس میں ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) اور پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن (پی یو ڈبلیو ایف) سمیت اہم شراکت دار شامل ہیں۔
مشاورتی مکالمے کے اختتام پر تمام متعلقہ فریقین نے آکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے معیارات کو مزید بہتر بنانے، قومی سطح پر اعداد و شمار جمع کرنے اور رپورٹنگ کے نظام کو مضبوط کرنے، وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان رابطہ کاری بڑھانے اور متعلقہ آئی ایل او کنونشنز کی توثیق کے عمل کو آگے بڑھانے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔

