تہران (ویب ڈیسک) ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے معاملے پر امریکا کے سامنے سات شرائط رکھ دی ہیں، تاہم روسی میڈیا کے مطابق ان شرائط کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں ، ایران نے واضح کیا ہے کہ شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔
روسی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران نے یہ شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائی ہیں ، تہران کی جانب سے واشنگٹن کو یہ بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کا انحصار مذکورہ شرائط کی تکمیل پر ہوگا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق تہران میں پیر کو ایک اہم اجلاس منعقد ہوگا، جس میں عراق اور خلیجی ممالک کے نمائندے بھی شرکت کریں گے ، اجلاس میں شریک ممالک کو نئے بحری راستے اور ٹرانزٹ کے انتظامات سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔
ایران اور عمان کے درمیان نیا معاہدہ :
رپورٹس کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت خلیج فارس میں داخلے کا راستہ مکمل طور پر ایرانی سمندری حدود سے گزرے گا، جبکہ خلیج فارس سے باہر نکلنے والا راستہ جزوی طور پر ایرانی پانیوں میں ہوگا۔
ذرائع کے مطابق اس ٹرانزٹ نظام کو ایرانی پروٹوکول کے تحت چلایا جائے گا ، دوسری جانب وہ جنوبی راستہ، جسے امریکا کھولنے پر زور دے رہا ہے، بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے مترادف نہیں ہوگا اور اس معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال میں فوری تبدیلی نہیں آئے گی۔

