Over Three Dozen Suspects Detained in Lahore Call Center Raids Capitalnewspoint.com

فیصل ٹاؤن اور جوہر ٹاؤن میں چھاپے، مبینہ فراڈ کال سینٹرز بے نقاب

لاہور (بیورو رپورٹ) نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور نے غیر قانونی اور مبینہ فراڈ کال سینٹرز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے فیصل ٹاؤن اور جوہر ٹاؤن میں دو مقامات پر چھاپے مارے، جہاں سے تین درجن سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

این سی سی آئی اے ترجمان کے مطابق کارروائی ایسے گروہ کے خلاف کی گئی جو مبینہ طور پر فراڈ کال سینٹرز کے ذریعے بیرون ملک شہریوں کو مختلف ٹیلی کام سروسز اور موبائل اپ گریڈ کے نام پر نشانہ بنا رہا تھا ، ترجمان کے مطابق زیر حراست افراد بیرون ملک شہریوں سے رابطے کے لیے ڈائل اَپ سافٹ ویئر استعمال کرتے تھے اور ٹیلی کام سروسز سے متعلق مختلف طریقوں سے انہیں مبینہ طور پر دھوکا دیتے تھے۔

این سی سی آئی اے کے مطابق چھاپہ مار کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور موبائل فونز قبضے میں لیے گئے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران برآمد ہونے والی ڈیوائسز میں مبینہ فراڈ سے متعلق ڈائل اَپ سافٹ ویئر اور دیگر ڈیٹا بھی موجود پایا گیا ، ترجمان کا کہنا ہے کہ ایک کال سینٹر میں کارروائی کے بعد ہونے والی تفتیش کے نتیجے میں دوسرے غیر قانونی کال سینٹر کا سراغ ملا، جس پر بھی ٹیم نے کارروائی کی۔

این سی سی آئی اے کے مطابق دوسرے مقام پر کارروائی کے دوران سکیورٹی عملے کی جانب سے مزاحمت بھی سامنے آئی، تاہم ٹیم نے کارروائی مکمل کرتے ہوئے وہاں موجود ڈیجیٹل آلات اور دیگر شواہد قبضے میں لے لیے ، ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران مبینہ جرائم کی آمدن سے خریدی گئی متعدد گاڑیاں بھی قبضے میں لی گئی ہیں۔ این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ تمام ڈیجیٹل شواہد قانونی طریقہ کار کے تحت تحویل میں لے کر سیل کر دیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق غیر قانونی کال سینٹرز کے مالکان اور ان کے ممکنہ سہولت کاروں کے کردار کا تعین تفتیش مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا ، این سی سی آئی اے ترجمان کے مطابق زیر حراست افراد کے خلاف پیکا ایکٹ اور تعزیرات پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات کے اندراج کے لیے استغاثہ تھانہ این سی سی آئی اے لاہور بھجوا دیا گیا ہے۔

ڈی جی این سی سی آئی اے سید علی ناصر رضوی نے کہا ہے کہ غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائی کا بنیادی مقصد پاکستان کی ڈیجیٹل اور مالیاتی ساکھ کا تحفظ کرنا ہے ، این سی سی آئی اے کے مطابق کارروائی سے متعلق مزید قانونی پیش رفت تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔