اسلام آباد (احسان بخاری / سپیشل رپورٹر) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات میں تاحال کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہوسکی، جبکہ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان انسداد دہشتگردی اور دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں انتظامی اقدامات کے معاملے پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار ہے ، ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات سمیت خیبرپختونخوا میں آپریشن سے متعلق بعض معاملات پر فریقین کے درمیان ابھی تک مکمل انڈرسٹینڈنگ پیدا نہیں ہوسکی۔
علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو یہ تجویز دی گئی کہ عمران خان سے ملاقات کرائی جائے، جس کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ مذاکرات کس حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومتی نمائندوں نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے کے معاملے پر کوشش کرنے کی بات کی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی یقین دہانی نہیں کرائی گئی ، دوسری جانب مذاکرات سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان اصل اختلاف انسداد دہشتگردی سے متعلق معاملات پر سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں امن و امان اور انتظامی معاملات کے حوالے سے بعض اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے، تاہم تحریک انصاف ان معاملات پر حکومتی مؤقف سے مکمل طور پر اتفاق نہیں کر رہی ، ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں دہشتگردی کے خلاف حکمت عملی اور اس سے جڑے انتظامی اقدامات پر فریقین کے درمیان ابھی تک قابلِ ذکر پیش رفت نہیں ہوسکی۔
تحریک انصاف کی جانب سے ان معاملات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جس کے باعث بات چیت میں ڈیڈ لاک پیدا ہوا ہے ، ذرائع کے مطابق حکومت کا مؤقف ہے کہ دہشتگردی کے معاملے پر پیش رفت کے بغیر مذاکرات کے دیگر نکات پر بھی آگے بڑھنا مشکل ہوگا ، حکومت کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ انسداد دہشتگردی اور امن و امان کے معاملات کو مذاکرات کے مجموعی عمل سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
ذرائع کے مطابق اگر دہشتگردی سے متعلق معاملات پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا تو دیگر امور پر بھی مذاکرات کو آگے بڑھانا مشکل ہوگا۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ انسداد دہشتگردی کے معاملات پر واضح پیش رفت مذاکرات کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں انتظامی اور سیکیورٹی اقدامات کے حوالے سے ایک واضح فریم ورک پر اتفاق کیا جائے، جبکہ تحریک انصاف ان معاملات پر اپنے تحفظات دور کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کو بھی مذاکرات میں اہم پیش رفت سے جوڑا جا رہا ہے ، اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ عمران خان سے مشاورت کے بغیر بڑے سیاسی فیصلوں پر حتمی پیش رفت مشکل ہوگی ، ذرائع کے مطابق اگر تحریک انصاف دہشتگردی سے متعلق معاملات پر بروقت پیش رفت نہیں کرتی اور دوسری جانب لانگ مارچ کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتا ہے تو اس کے جاری مذاکرات پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں حکومت کی جانب سے مذاکرات کے علاوہ دیگر ممکنہ آپشنز پر بھی غور کیا جاسکتا ہے، تاہم فی الحال بات چیت کا عمل جاری رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، حکومتی اور اپوزیشن مذاکرات کے پہلے دور کے بعد بھی دونوں جانب سے بات چیت جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا تھا، تاہم مختلف معاملات پر اختلافات برقرار رہے۔
اپوزیشن کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کو اہم مطالبے کے طور پر سامنے رکھا گیا، جبکہ حکومت نے دہشتگردی اور امن و امان سمیت دیگر امور پر بھی بات چیت کی ، ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال میں مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ فریقین انسداد دہشتگردی، خیبرپختونخوا کی صورتحال اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سمیت اہم معاملات پر کس حد تک مشترکہ مؤقف اختیار کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

