اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کا اجلاس چیئرمین امین الحق کی زیر صدارت ہوا، جس میں ملک بھر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کے معیار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نے موبائل سروس کی خراب کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صارفین کو بہتر اور قابلِ اعتماد موبائل سروس فراہم کرنا ضروری ہے ، ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ایک ہی کال کے لیے تین مرتبہ کوشش کرنا پڑتی ہے، جو سروس کے معیار پر سوال اٹھاتا ہے۔
چیئرمین نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے سوال کیا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ناقص سروس فراہم کرنے والی کتنی ٹیلی کام کمپنیوں کے خلاف جرمانے عائد کیے گئے اور کیا اقدامات کیے گئے۔
پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں موبائل سروس اور انٹرنیٹ کے معیار سے متعلق مسائل موجود ہیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران ٹیلی کام کمپنیوں کو 4 شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران مجموعی طور پر 48 شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ٹیلی کام کمپنیوں کو 22 وارننگ لیٹرز بھی جاری کیے گئے جبکہ مختلف کمپنیوں پر مجموعی طور پر 68.9 ملین روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ، کمیٹی کو بتایا گیا کہ قانون کے تحت پی ٹی اے کسی ٹیلی کام کمپنی پر زیادہ سے زیادہ 350 ملین روپے تک جرمانہ عائد کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
موبائل سروس کے معیار پر مسلسل شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے قائمہ کمیٹی نے جاز، ژونگ اور یوفون کے حکام کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔ تینوں کمپنیوں کے نمائندگان کمیٹی کے سامنے موبائل سروس کے معیار اور صارفین کو درپیش مسائل سے متعلق وضاحت پیش کریں گے۔
چیئرمین کمیٹی امین الحق نے وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے پر زور دیا کہ ملک بھر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور صارفین کو درپیش شکایات کا عملی حل یقینی بنایا جائے۔

