لاہور (بیورو رپورٹ) محکمہ بلدیات پنجاب نے کم عمری کی شادیوں کی حوصلہ شکنی اور نکاح کی رجسٹریشن کے عمل کو مزید منظم بنانے کے لیے نکاح رجسٹرارز سے متعلق نئے قواعد اور شرائط متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
محکمہ بلدیات کے مطابق مجوزہ ضوابط کے تحت نکاح رجسٹرار کو صرف اپنی مقررہ حدود میں ہونے والے نکاح رجسٹر کرنے کی اجازت ہوگی ، اپنی حدود سے باہر ہونے والے نکاح کی رجسٹریشن کرنا ان کے اختیار میں نہیں ہوگا ، نئے نظام کے تحت نکاح رجسٹرار بننے کے لیے امیدوار کا باقاعدہ اہل ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے ، اس کے علاوہ نکاح سے متعلق مقررہ امتحان میں کم از کم 90 فیصد نمبر حاصل کرنا بھی لازمی ہوگا۔
محکمہ بلدیات کے مطابق جدید ڈیجیٹل نظام کے استعمال کی صلاحیت بھی نکاح رجسٹرار کی تقرری کے لیے ضروری ہوگی، امیدوار کے لیے انٹرنیٹ اور موبائل فون استعمال کرنے کی بنیادی اہلیت لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ ڈیجیٹل نظام سے ناواقف شخص کو رجسٹرار مقرر نہیں کیا جائے گا۔
نئے قواعد کے تحت نکاح کی رجسٹریشن کا عمل بھی مقررہ مدت میں مکمل کرنا ہوگا ، نکاح رجسٹرار کو رجسٹریشن مکمل کرکے سات روز کے اندر متعلقہ یونین کونسل کو ریکارڈ ارسال کرنا ہوگا ، محکمہ بلدیات نے نکاح رجسٹرارز کی تقرری کے حوالے سے قانونی حیثیت کو بھی اہم قرار دیا ہے ، نئے ضوابط کے مطابق ایسے شخص کو نکاح رجسٹرار مقرر نہیں کیا جائے گا جس کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہو۔
محکمہ بلدیات پنجاب کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد نکاح رجسٹریشن کے نظام میں شفافیت اور مؤثریت پیدا کرنا، ریکارڈ کو بہتر بنانا اور کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے نگرانی کا مؤثر نظام قائم کرنا ہے۔

