نیویارک (ویب ڈیسک): روس نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں داعش خراسان کی موجودگی بدستور ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج ہے، جبکہ دہشتگرد تنظیموں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال نے عالمی سطح پر خطرات میں مزید اضافہ کردیا ہے .
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نمائندے واسیلی نیبنزیا نے کہا کہ افغانستان سمیت افریقہ کے بعض خطوں میں دہشتگردی کا خطرہ ختم نہیں ہوا، جس کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ اور مربوط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔
یہ اجلاس 11 ستمبر 2001 کے دہشتگرد حملوں کی 25ویں برسی کے موقع پر منعقد کیا گیا تھا ، روسی مندوب نے کہا کہ مختلف خطوں کے درمیان غیر ملکی جنگجوؤں کی نقل و حرکت اور دہشتگرد گروہوں کی جانب سے ایک خطے میں حاصل تجربات کو دوسرے علاقوں میں منتقل کرنا اب بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔
واسیلی نیبنزیا نے دہشتگرد تنظیموں کی بدلتی حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ گروہ اپنی سرگرمیوں کے لیے نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ، ان کے مطابق بھرتی، پروپیگنڈا، مالی وسائل کے حصول، حملوں کی منصوبہ بندی اور باہمی رابطوں کے لیے ڈیجیٹل مالیاتی ذرائع، ڈرونز، مصنوعی ذہانت اور جدید مواصلاتی نظام کا استعمال بڑھ رہا ہے۔
روسی نمائندے نے دہشتگردی کے ان خطرات کو عالمی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی ایک ملک یا خطے کی کوششیں کافی نہیں، اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مؤثر تعاون اور معلومات کے تبادلے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ داعش خراسان گزشتہ چند برسوں کے دوران افغانستان میں متعدد مہلک حملوں کی ذمہ داری یا اس سے وابستگی کے باعث نمایاں رہی ہے اور اس تنظیم نے افغانستان کی حدود سے باہر کارروائیاں کرنے کی صلاحیت کا بھی اظہار کیا ہے۔

