نئی دہلی (ویبڈیسک) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کے مسلم اور پڑوسی ممالک کے ساتھ کوئی بنیادی اختلاف نہیں، تہران جنگ جاری رکھنے کے بجائے امن کو ترجیح دیتا ہے، تاہم امریکا ایران کو دشمن کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے ،نئی دہلی میں ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور جنگ کو مزید طول دینے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کے حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے اور ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے بین الاقوامی حقوق کا حصول اور تحفظ چاہتا ہے ، مسعود پزشکیان نے الزام عائد کیا کہ امریکا، اسرائیل اور بعض یورپی ممالک خطے میں کسی ملک کو آزادانہ طور پر آگے بڑھتا نہیں دیکھنا چاہتے ، ان کے مطابق ایران کا مسلم اور پڑوسی ممالک کے ساتھ کوئی تنازع نہیں، لیکن امریکا اسے دشمن بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی صدر کا اہم بیان
اس سے قبل ایک بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر امریکا ایران کے خلاف ناکہ بندی اور جارحانہ اقدامات ختم کردے تو آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔
انہوں نے امریکا سے ایران کے خلاف پابندیاں اور ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد امریکا نے ناکہ بندی کا راستہ اختیار کیا۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ سمندری راستہ ایسا ذریعہ نہیں جس پر ایران کی زندگی مکمل طور پر منحصر ہو، اس لیے امریکا اس حکمت عملی کے ذریعے بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا ، مسعود پزشکیان نے برکس اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں وہ تمام ممالک شریک ہوں گے جن کی سرزمین سے ایران پر حملے کیے گئے تھے۔

